خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 243
خطبات طاہر جلد ۲ 243 خطبه جمعه ۲۹ اپریل ۱۹۸۳ء حضرت نوح علیہ السلام کو خدا نے ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا اے قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں تمہیں عذاب عظیم کے دن سے ڈرا رہا ہوں۔اب اس بیان میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ایک سیدھی سادی نصیحت ہے لیکن دل کی گہرائی سے نکلی ہے۔حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم پر ہلاکت کا ایک خوف محسوس کر رہے ہیں اور اس کو بر وقت متنبہ کر رہے ہیں۔پھر آپ کہتے ہیں اُبَلِّغُكُمْ رِسلتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچارہا ہوں اور تمہیں نصیحت کر رہا ہوں۔ایسا کیوں کر رہا ہوں؟ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ اس لئے کہ مجھے میرے اللہ نے بعض ایسی خبریں دی ہیں جن کا تمہیں علم نہیں ہے ہم نہیں جانتے کہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور تم پر کیا واقعات گزر جائیں گے؟ پس میں تمہیں ایک باخبر انسان کی حیثیت سے متنبہ کرتا ہوں۔پھر حضرت نوح علیہ السلام قوم کے انکار کی وجہ کا تجزیہ کرتے ہیں۔کہتے ہیں میں جانتا ہوں کہ تم کیوں انکار کر رہے ہو۔اَوَعَجِبْتُمْ اَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے نصیحت کا سامان کیا ہے؟ اس نے تمہارے لئے ایک مذکر ، ایک نصیحت کرنے والا بھیجا اور نصیحت کی صورت میں اپنا کلام نازل فرمایا۔دوسری تعجب کی بات یہ ہے کہ عَلَى رَجُلٍ مِنْكُم تم میں سے ایک عام انسان کو اپنا نمائندہ بنا کر کیوں بھیجا؟ فرمایا لِيُنْذِرَكُمْ اس لئے بھیجا کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔اگر آپ اس دلیل پر غور کریں تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اکثر قو میں تعجب کی بنا پر انکار کرتی ہیں۔تعجب عدم ایمان کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالی کی ہستی پر ایمان اٹھ چکا ہوتا ہے اور یہ بات کہ واقعہ اللہ کسی بندے سے کلام بھی کرتا ہے یا کرسکتا ہے صرف قصہ اور کہانی ہو جاتی ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں اس واقعہ کا ظہور تو ہم مان سکتے ہیں جو اب صرف ایک کہانی رہ گیا ہے لیکن واقعاتی دنیا میں ایسا ہو جائے ، اس پر کسی کو ایمان نہیں ہوتا۔مگر اس سے بھی انکار نہیں کہ جب بھی خدا نے کسی کو بھیجا ہے اسی طرح بھیجا ہے۔یہ دلیل اپنی ذات میں بظاہر کوئی وزن نہیں رکھتی اس لئے کہ یہ ایک دعوی ہے لیکن دعوی اس نوعیت کا ہے کہ جب آپ اس کا تجزیہ کریں تو اس کو مانے بغیر چارہ نہیں۔جب سے دنیا بنی ہے اور خدا تعالیٰ