خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 230

خطبات طاہر جلد ۲ کی تصحیح ضروری سمجھی گئی۔230 خطبه جمعه ۲۲ ر ا پریل ۱۹۸۳ء ہر چند کہ نسیان اور بھول چوک کے نتیجہ میں جو غلطی ہو وہ قابل مواخذہ نہیں ہوتی لیکن بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں کہ وہاں غلطی پھیل کر عام ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور پھر بعض مقام ایسے ہوتے ہیں جن کی طرف غلط بات منسوب کرنا خواہ بھول کے نتیجہ ہی میں کیوں نہ ہو نہایت سنگین بات بنتی ہے اس لئے بھول چوک اپنی جگہ لیکن اس محل اور موقعہ پر کہ خلیفہ وقت کا خطبہ ہورہا ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف بات منسوب کی گئی ہو، یہ بھول چوک بھی اپنی ذات میں ایک بڑی غلطی ہے۔اس سلسلہ میں جہاں تک استغفار کا تعلق ہے وہ تو میرا اپنے رب کے سامنے ہے لیکن جہاں تک وضاحت کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے سامنے وضاحتاً پیش کروں کہ کیوں ایسا ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر کشفاً سورہ عصر کی جو تفسیر بیان فرمائی اس میں یہ بات خاص طور پر بیان کی گئی کہ اس سورۃ کے اندر جو اعداد ہیں ان میں بہت بڑی حکمتیں مضمر ہیں۔مثلاً آپ نے اس سورۃ کے پورے اعداد سے یہ استنباط فرمایا ہے کہ آدم سے لے کر آنحضرت ﷺ کے وصال تک چار ہزار سات سو انتالیس برس کا عرصہ گزرا ہے اور فرمایا کہ یہ اس لئے کہ اس سورۃ کے شروع سے آخر تک کے جو اعداد ہیں وہ چار ہزار سات سو انتالیس بنتے ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ یہ علم مجھے اللہ تعالیٰ نے کشفاً عطا فرمایا ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جو آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ۲۳ سالہ زمانہ نبوت کے آخر تک بنتا ہے۔جب میں نے اس دوست کا خط پڑھا تو مجھے یاد آ گیا کہ میرے ذہن میں یہ اشتباہ کیوں پیدا ہوا تھا۔بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب ایک تفسیر پیش فرماتے ہیں تو وہ تفسیر اتنی خیال انگیز ہوتی ہے کہ اس سے آگے بہت سے دوسرے گوشے بھی روشن ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور انسان کی توجہ تفسیر کے بعض نئے نئے پہلوؤں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔چونکہ کچھ عرصہ پہلے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کی روشنی میں اس سورۃ پر غور کیا تھا اس لئے میرے ذہن میں جو دو باتیں نمایاں طور پر سامنے آئیں وہ اس غلطی کا موجب بنیں۔چنانچہ ایک زمانہ کے بعد میں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ یہ تفسیر میں نے مسیح موعود علیہ السلام کی پڑھی تھی حالانکہ وہ خود اس تغیر پر مبنی تھی مگر تھی میری اپنی تفسیر۔وہ کیا تھی ، وہ بیان کرنے سے پہلے میں کچھ اور باتیں وَالْعَصْرِ