خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 225

خطبات طاہر جلد ۲ 225 خطبه جمعه ۱۵ سراپریل ۱۹۸۳ء پہنچے گا۔(وہاں بھی جیتی تو قادیان کی ٹیم تھی اور فائدہ بظاہر کھلاڑیوں کو پہنچا تھا ) لیکن اللہ کی محبت بھی حاصل ہوگئی اس لئے جب اللہ کی رضا شامل ہو جائے گی تو احمدی تاجروں کو ، احمدی صنعت کاروں کو اور احمدی سائنسدانوں کو اور احمدی و کلا کو اللہ کا پیار نصیب ہو جائے گا۔جب وہ خدا کی رضا کی خاطر اس سے دعائیں مانگتے ہوئے ہر شعبہ کی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تو خدا کا غیر معمولی فضل ان کے شامل حال ہوگا۔پھر یہ کوشش بھی کرنی ہے کہ پوری سخاوت کے ساتھ اپنے گر اور ہنر جماعت کو پیش کریں۔یہ وہ آخری حصہ ہے جس کی طرف میں خصوصیت سے توجہ دلانا چاہتا ہوں۔تاجروں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ ان کو کوئی گر مل جائے یا کوئی اچھا موقع تجارت کا میسر آ جائے تو وہ اسے اپنے تک محدودر کھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کوئی اور اس میدان میں داخل نہ ہو۔ہمارے اطباء میں بھی یہ مرض پایا جاتا ہے لوگوں کو تو شفا دیتے ہیں لیکن ان کو اپنے اس مرض کی شفا نہیں۔کوئی اچھا نسخہ ہاتھ آجائے جس سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچتا ہے تو وہ دبا کر بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ چٹکلا صرف ان سے ہی ملے گا۔اسی طرح ہمارے صنعت کاروں میں بھی یہ بیماری ہے بلکہ ہمارے دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں بھی یہ بیماری پائی جاتی ہے۔اس بیماری کے ساتھ بعض صورتوں میں فرد کی ترقی کی ضمانت تو دی جاسکتی ہے لیکن قومی ترقی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ یہ علامت قومی تنزل کی ضمانت بن جاتی ہے۔چنانچہ آپ مشرق اور مغرب کی ترقیات کا مقابلہ کریں یا تنزل اور ترقی کا مقابلہ کریں تو ایک بہت بڑا امر جوکارفرما نظر آئے گا وہ یہی ہے۔ہمارے ہاں یہ بات رواج پکڑ گئی کہ جس کو کوئی علم ملا اس نے سینہ بہ سینہ اپنی اولاد میں چلانا شروع کر دیا۔اور یہ سینہ بہ سینہ کا محاورہ سوائے مشرق کے دنیا میں اور کہیں ملتا ہی نہیں۔عجیب وغریب محاورہ ہے اور لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ راز سات پشتوں سے سینہ بہ سینہ ہمارے خاندان میں چلا آرہا ہے۔راز سینہ بہ سینہ تو آرہا ہے لیکن ساری قوم کو دفن کر گیا۔مغرب نے اس کے برعکس اپنے علوم کو تر ویج دی ہے۔اگر کسی کے ہاتھ چھوٹا سا نکتہ بھی آیا ہے تو اس نے اس کی تشہیر کی ہے اور تمام قوم کو اس میں شامل کیا ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ہر فرد کی دولت ساری قوم کی دولت بن گئی ، صرف اس کی ذاتی دولت نہ رہی۔اس طرح ہر فرد نے جو سیکھا وہ بھی اس کو مل گیا اور اس نے آگے دوسروں کو بھی عطا کیا۔