خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 224
خطبات طاہر جلد ۲ 224 خطبه جمعه ۱۵ سراپریل ۱۹۸۳ء ہسپتالوں میں ہیں لیکن شفا آپ کے پاس ہے کیونکہ ہمیں یہی پتہ لگتا ہے کہ جتنے مریض آپ کے پاس آتے ہیں وہ اللہ کے فضل سے شفا پا جاتے ہیں لیکن دوسرے ہسپتالوں میں شفا کا یہ معیار نہیں ہے۔اگر ظاہری اسباب کو دنیا کے کمپیوٹر میں ڈالا جائے تو یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہئے۔یہ نتیجہ اس لئے نکلتا ہے کہ ہمارے ہاں اللہ کی رضا کا عنصر داخل ہو جاتا ہے نیتیں نیک اور پاک ہیں ان کے اندر خلوص ہے اللہ کی رضا کی خاطر ہمارے ڈاکٹر باہر گئے ہیں اور اللہ کی خاطر وہاں کام کر رہے ہیں اور جب اللہ کی رضا کا عصر بیچ میں داخل ہو جاتا ہے تو سارے نتائج کی کایا پلٹ جاتی ہے۔یہ چیز اتنی تفصیل کے ساتھ ہمارے معاملات میں دخل دیتی ہے کہ اگر انسان کھلی آنکھوں کے ساتھ مطالعہ کرے تو اس کے لئے شک کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی یہ چیز کارفرما نظر آتی ہے۔مثلاً کھیل کے میدان میں میچ ہو رہا ہے اور احمدی ٹیم کو شکست ہورہی ہولیکن وہاں اچانک کایا پلٹتی ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ اللہ کی رضا کا عنصر بیچ میں داخل ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ بٹالہ میں ایک میچ ہورہا تھا۔ایک عیسائی ٹیم کے ساتھ احمدی ٹیم کا بڑے زور کا مقابلہ تھا اور وہاں یہ Issue بن گیا کہ دیکھیں! مسلمان جیتے ہیں یا عیسائی ؟ عیسائی ٹیم کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ ہماری ٹیم جو بظاہر کمزور تھی وہ ا کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی لیک اللہ تعالیٰ نے چونکہ اسلام کی خاطر ایک فضل کرنا تھا وہاں یہ بہانہ بن گیا ، حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ڈلہوزی سے واپس قادیان جاتے ہوئے وہاں سے گزر ہوا۔آپ کی نظر پڑی کہ ایک جگہ کوئی ہنگامہ سا ہے اور بہت سے احمدی بھی وہاں موجود ہیں۔آپ نے موٹر ٹھہرائی اور دریافت فرمایا کہ کیا ہورہا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ حضور ! یہاں تو بڑا سخت مقابلہ ہورہا ہے ہماری ٹیم شکست کھا رہی ہے اور یہ مقابلہ گویا اسلام اور عیسائیت کا مقابلہ بن گیا ہے۔آپ دعا کریں۔چنانچہ حضرت صاحب نے سفر کو ٹال دیا اور آپ وہیں کھڑے ہو گئے اور فرمایا میں دعا کرتا ہوں۔حضور نے دعا کرائی اور دیکھتے دیکھتے کا یا پلٹ گئی اور احمدی کمزور کھلاڑی بھی مخالف ٹیم کے طاقتور کھلاڑیوں پر غالب آنے لگے۔یہ کیا واقعہ ہوا تھا ؟ ان کی جسمانی حالت میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔صرف اللہ کا ایک خاص فضل شامل حال ہوا جس نے ظاہری مقابلے کے بالکل برعکس نتیجہ پیدا کیا۔پس جب آپ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر دیانتداری اختیار کریں گے تو فائدہ تو آپ کو ہی