خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 17
خطبات طاہر جلد ۲ 17 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء زبانوں کو ادب سکھایا گیا، ہر ایک کو اپنا مقام بتایا گیا کہ کہاں تک تم نے رہنا ہے ، کہاں آگے بڑھنا ہے، کہاں رک جانا ہے۔حسن و احسان کے یہ سارے کرشمے حضرت محمد مصطفی علی کے ذریعہ سے پھوٹے تھے۔یہ حسن و احسان کا قلزم آپ سے جاری ہوا ہے جس نے ساری دنیا کو بھرنا ہے لیکن عملاً ابھی تک نہیں بھر سکے اس لئے کہ قربانی کرنے والے وہ لوگ نہیں ہیں جو اپنی ذات میں اس حسن کو جاری کریں۔جماعت احمدیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ہر فرد کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے کہ آنحضور ﷺ کے قائم فرمودہ عدل پر بھی قائم ہو، آپ کے احسان پر بھی قائم ہو اور پھر دعا کرے کہ خدا تعالیٰ اسے اس عالی مقام پر بھی فائز فرما دے جس کو ایتاء ذی القــر بــی کہا جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ میں اس کے عجیب و غریب اور حیرت انگیز مناظر ہیں لیکن اب ان کے بیان کا وقت نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے ہم حضوراکرم ﷺ کی پاک سیرت کو اپنا ئیں اور آپ کے خلق کو اپنی ذات میں زندہ کر کے دنیا کے سامنے پیش کریں۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۱ / اپریل ۱۹۸۳ء)