خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 16
خطبات طاہر جلد ۲ 16 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء نیکی حضور اکرم ﷺ کی ذات سے پھوٹ رہی تھی۔آپ ہی ہر حسن کا منبع اور سر چشمہ تھے اس لئے صرف لَا تَغرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ دینا کافی نہیں ہے یا محض سر دھنا کہ بڑا مزہ آیا حضور ا کرم کے لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ فرما دینے پر ، دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کن دکھوں سے گزر کر یہ لَا تَثریب فرمایا گیا تھا۔آجکل تو جو جھگڑے میرے سامنے آتے ہیں مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے کہ بعض لوگ ادنی ادنی لڑائیوں کے نتیجہ میں چھوٹی چھوٹی باتیں بھی معاف نہیں کر سکتے۔کہتے ہیں ہم کس طرح معاف کریں ہماری غیرت برداشت نہیں کر سکتی۔فلاں نے ہمارے باپ کو یہ کہا تھا فلاں نے چچا کو یہ کہا تھا، کیا ہم میں غیرت نہیں ہے؟ ہم کس طرح اس کو منہ لگائیں لیکن دوسری طرف حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعریف میں روتے بھی ہیں اور آنحضور کو دشمنوں نے جو تکلیفیں پہنچائیں ان کے ذکر پر ان کا دل واقعتہ کڑھتا بھی ہے اور وہ غم اور دکھ بھی محسوس کرتے ہیں لیکن یہ محسوس نہیں کرتے کہ اس اسوہ کو ہم نے اپنی ذات میں بھی تو جاری کرنا ہے۔لیکن عجیب احسان ہے حضور اکرم ﷺ کا یا اللہ تعالیٰ کا آپ کی ذات پر کہ ایسی کامل تعلیم عطا فرمائی کہ جو معاف نہیں کر سکتے ان کے لئے بھی کوئی طعنہ نہیں رکھا یہ بھی آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔یہ نہیں کہ آپ خطبہ سن کر جب اپنے گھروں میں واپس جائیں تو ان لوگوں کو طعنے دینا شروع کر دیں جو واقعی طور پر مظلوم ہیں اور معاف نہیں کر سکتے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اسکی بھی تمہیں اجازت نہیں۔کسی کو اس قسم کا طعنہ دینا بھی اس حسن کے خلاف ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے معاشرہ میں اللہ تعالیٰ پیدا فرمانا چاہتا ہے۔فرمایا جو مظلوم ہے اگر وہ معاف نہیں کر سکتا تو اتنا بدلہ لینے کی اجازت ہے اور اس پر کوئی حرف نہیں ہے کوئی پکڑ نہیں ہے اور تمہیں اجازت نہیں ہے کہ تم اس کو طعنے دو اور کہو کہ تم نے معاف کیوں نہیں کیا ؟ جب رسول اللہ ﷺہ معاف فرمایا کرتے تھے تو تم بھی ضرور معاف کرو۔وہ کہہ سکتا ہے میں ادنیٰ مقام پر فائز ہوں ، میں عدل سے آگے بڑھنے کی طاقت نہیں پاتا۔لیکن فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: ۴۱) جو آگے بڑھ سکتا ہے اور معاف کر سکتا ہے اس کا اجر اللہ پر ہے۔غرض سوسائٹی کو حسین بنانے کے لئے قرآن کریم اور سنت نبوی میں بڑی واضح تعلیم دی گئی ہے اور سوسائٹی کو ہر انسانی دکھ سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر کوشش کی گئی ہے۔چنانچہ زبانوں کو روکا گیا، صلى الله