خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 220
خطبات طاہر جلد ۲ 220 خطبه جمعه ۱۵ را پریل ۱۹۸۳ء تمہارے مذہب کے ماننے والے اس میدان میں باقیوں سے آگے ہیں، اس وقت تک آگے روانہ نہیں ہوئے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بھی اسی قسم کا ایک واقعہ آغاز جوانی کا ملتا ہے۔پس یہ وہ نمونے ہیں جن کی ہم نے پیروی کرنی ہے اور پھر اپنی قوم کو آگے بڑھانا ہے اسی غرض سے مجلس صحت قائم کی گئی ہے اس لئے تمام دنیا کے احمدیوں کو چاہئے کہ جہاں جہاں کسی کھیل کا کوئی اچھا کھلاڑی موجود ہو وہ مجلس صحت مرکزیہ کو اطلاع دے تا کہ با قاعدہ نظم وضبط کے ساتھ ان کو مختلف ٹیموں میں ڈھالا جا سکے اور پھر جہاں تک ممکن ہو یہ کوشش کی جائے کہ ہر کھیل کی ایک احمدی ٹیم دنیا میں پیدا ہو جائے۔یہ درست ہے کہ کھیلوں کا جو طریق اس وقت رائج ہے اس کے لحاظ سے ہم انٹر نیشنل یعنی بین الاقوامی مقابلوں میں احمدی ٹیم کے طور پر ان کو داخل نہیں کر سکتے لیکن اگر ہم ایسا نہ بھی کر سکیں تب بھی یہ احساس کہ نہایت اعلیٰ معیار کی ایک احمدی ٹیم تیار ہو چکی ہے جو واقعہ دنیا کی صف اول کی ٹیموں حضرت مصلح موعود نے اس ضمن میں حسب ذیل واقعہ کا ذکر فرمایا ہے۔حضور کا اشارہ غالباً اسی واقعہ کی طرف ہے۔سید اسمعیل شہید جو تیرھویں صدی میں گزرے ہیں۔حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے مرید تھے اور سید احمد صاحب بریلوی سکھوں سے جہاد کرنے کے لئے پشاور کی طرف گئے ہوئے تھے۔سید اسمعیل صاحب کسی کام کے لئے دہلی آئے ہوئے تھے۔جب دیلی سے واپس جاتے ہوئے کیمبل پور کے مقام پر پہنچے تو کسی نے ان سے ذکر کیا کہ اس دریا کو یہاں سے تیر کر کوئی شخص نہیں گزرسکتا۔اس زمانہ میں صرف فلاں سکھ ہے جو گزرسکتا ہے مسلمانوں میں سے کوئی اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں۔وہ وہیں ٹھہر گئے اور کہنے لگے کہ اچھا، ایک سکھ ایسا کام کرتا ہے کہ مسلمان نہیں کر سکتا۔اب جب تک اس دریا کو پار نہ کر لوں گا میں یہاں سے نہیں ہلوں گا۔چنانچہ وہاں انہوں نے تیرنے کی مشق شروع کر دی اور چار پانچ مہینہ میں اتنے مشاق ہو گئے کہ تیر کر پار گزرے اور پارگزر کر بتا دیا کہ سکھ ہی اچھے کام کرنے والے نہیں بلکہ مسلمان بھی چاہیں تو ان سے بہتر کام کر سکتے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۲ سورۃ البقره صفحه ۲۵۶)