خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 214

خطبات طاہر جلد ۲ 214 خطبه جمعه ۸ راپریل ۱۹۸۳ء حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی رو سے ہم ایسے ہی نصیحت کرنے والے ہیں اور ہمیں ایسی صلى الله عروسه ہی نصیحت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ ہمیں لازماً حضرت محمد مصطفی ع کے نقش پا پر چلنا پڑ لى الله ایسے نصیحت کرنے والے ہیں جنہیں محمد مصطفیٰ علی کے نقش کوچ عروسه۔ نا پڑے گا ہم کو چومتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا ایک قدم بھی اگر ہم نے اس راہ سے دوسری طرف ہٹایا تو ہم اس زمرہ میں شمار نہیں کئے جائیں گے جن کی صلى الله قسمت میں دنیا کی تقدیریں بدلنا ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی اس کی گواہ ہے کسی ایک ا موقع پر بھی اور کسی ایک نصیحت میں بھی کوئی ادنی سا تکبر یا نفرت کا کوئی شائبہ تک نہیں ملے گا۔ آپ نے اپنی جان پرغم وارد کئے ، آپ لوگوں کے غم میں گھلتے رہے، آپ نے ان کے لئے راتوں کو اٹھ اٹھ کر گریہ وزاری کی یہاں تک کہ امہات المومنین کی گواہی ہے کہ بعض دفعہ آپ راتوں کو چھپ کر باہر نکل گئے اور ہم نے جب جا کر دیکھا تو اس حال میں آپ گریہ وزاری کر رہے تھے اور زمین پر اس طرح نڈھال پڑے ہوئے تھے اور اس طرح آپ کے سینہ سے آوازیں نکل رہی تھیں جس طرح کوئی ہنڈیا اہل رہی ہے۔ (سنن نسائی کتاب عشرۃ النساء باب الغير ة ) اس طرح راتوں کو اٹھ اٹھ کر اور چھپ چھپ کر خدا کے حضور گریہ وزاری کرنا صبر کے سوا تو پیدا نہیں ہوا کرتا۔ لوگوں کے ہاتھوں آپ بے انتہا دکھ اٹھاتے تھے لیکن آپ کے ہاتھوں کسی نے کبھی کوئی دکھ نہیں اٹھایا۔ پس اگر آپ نے کامیاب ناصح بننا ہے اور وہ مذکر بنا ہے جس کے مقدر میں خدا تعالیٰ نے صلى الله لاز مافتح رکھ دی ہے اور یقینا وہ کامیاب ہوگا تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنی پڑے گی کیونکہ آپ دنیا کے سب سے بڑے مذکر تھے اس لئے ہمیں ایک ایک قدم سوچ سوچ کر رکھنا صلى الله پڑے گا۔ اگر ہمارا ایک قدم بھی حضور اکرم ﷺ کی طرز نصیحت سے باہر نہ جائے تو پھر دیکھیں کہ خدا علي کے فضل سے وہ امیدیں جو آپ سے وابستہ ہیں اور وہ توقعات جو خدا تعالیٰ نے إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا کے تابع قرآن کریم میں بیان فرمائی ہیں کس طرح آپ کی شان میں پوری ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اگر جماعت احمدیہ نے نصیحت اور ہمدردی کے اس اسلوب کو چھوڑ دیا تو پھر اس دنیا کو بچانے والا اور کوئی نہیں آئے گا۔ تم وہی آخری جماعت ہو جو دنیا کو زندہ کرنے کے لئے اور دنیا کو موت سے نجات دینے کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ پھر نہ قرآن میں نہ حدیث میں اس جماعت کے بعد کسی اور جماعت کا ذکر ملتا ہے اس لئے تم اپنی نیکیوں کی حفاظت کرو، اپنے مقام کو