خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 210

خطبات طاہر جلد ۲ 210 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۳ء قدروں کی طرف بلاتے ہیں تو تب بھی وہ حق کے ساتھ بات کرتے ہیں اور حق کی طرف بلانے والے ہوتے ہیں۔ صبر کے ساتھ بات کرتے ہیں اور صبر کی طرف بلانے والے ہوتے ہیں ۔ یعنی صرف تبلیغ کا مضمون یہاں بیان نہیں ہوا بلکہ تربیت کا ایک اندرونی مضمون بھی بیان ہو گیا یعنی ایمان لانے والے اور عمل صالح کرنے والے لوگ اس وقت تک اپنے ایمان اور عمل صالح پر قائم نہیں رہ سکیں گے جب تک ان کے اندر یہ صفات پیدا نہ ہو جائیں کہ وہ دوسرے کو مسلسل نصیحت کریں اور حق کی طرف بلاتے رہیں اور نہ تھکیں ، حق طریق پر بلا ۔ بلاتے رہیں اور نہ تھکیں ، لمیں ، صبر کے ساتھ بلائیں اور نہ تھکیں اور صبر کی طرف بلائیں اور نہ تھکیں۔ یہ ان کے لئے اندرونی زندگی کی حفاظت کا انتظام ہے۔ اس مضمون پر جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے احمدی تربیت کرنے میں اس لئے نا کام ہو جاتے ہیں کہ وہ اس مضمون کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔ ان کی نصیحت میں خشونت آ جاتی ہے، ان کی نصیحت میں ایک مخفی تکبر پایا جاتا ہے، ان کی نصیحت اعتراضوں میں تبدیل ہو جاتی ہے ، ان کی نصیحت نفرت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور نفرت پیدا کرتی ہے اس لئے ایسے لوگ لازماً نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ وہ اپنی ذات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے اور نہ اپنے معاشرہ میں وہ کوئی پاک تبدیلی پیدا کر سکیں گے۔ مجھے چونکہ کثرت کے ساتھ خطوط آتے ہیں بعض دفعہ ایک ایک دن میں بارہ بارہ سو خطوط آتے ہیں اور ہر قسم کے مزاج کے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے اس لئے ساری دنیا میں دنیا میں جو احمدی ذہن اس وقت ارتقائی حالت میں سے گزر رہا ہے اس سارے ذہن پر میری نظر رہتی ہے کہ کس ملک میں کسی قسم کے خیالات جگہ پا رہے ہیں، کسی قسم کے خیالات نشو و نما پارہے ہیں، کیا تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ چنانچہ اس مضمون سے تعلق رکھنے والے سب سے زیادہ قابل فکر خطوط پاکستان سے ہوتے ہیں ۔ لوگ بعض دفعہ چھوٹے دل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور نصیحت کی بجائے سختی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں ایسی طرز ہوتی ہے اور ان کی طرز تحریر ایسی ہوتی ہے جس سے ہمدردی اور صبر کی بجائے غصہ اور نفرت کا پیغام ملتا ہے۔ مثلاً عورتوں پر اعتراض ہوں گے کہ جی فلاں کا برقع پتلا ہے۔ یہ کیا طریق ہے۔ اپنی طرف سے وہ برقع پہن رہی ہے۔ یا کہتے ہیں فلاں کا نقاب ٹیڑھا ہو جایا کرتا ہے، فلاں اچھے کپڑے پہن لیتی ہے۔ اور اسی طرح بعض لوگ مردوں پر اعتراض کرنے پر تلے رہتے