خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 209
خطبات طاہر جلد ۲ 209 خطبہ جمعہ ۸/اپریل ۱۹۸۳ء آسان راہوں کی طرف نہیں بلا ر ہے ہم تمہیں ایسے راستوں کی طرف بلانے آئے ہیں جہاں پتھر برسائے جائیں گے اور پھول نہیں پڑیں گے، جہاں کانٹے بچھائے جائیں گے، جہاں دکھ ہوں گے، جہاں تمہارے خون کے قطرے بہیں گے، جہاں تمہارے سر کاٹے جائیں گے، جہاں تمہارے اموال لوٹے جائیں گے، جہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم جب بسیرا کرنے لگو گے تو تمہیں بسیرا نہیں کرنے دیا جائے گا، تمہارے ستانے کے انتظامات بھی تم سے چھین لئے جائیں گے، اس لئے وہ خوب کھول دیتے ہیں کہ اگر تم ہم میں داخل ہونا چاہتے ہو تو صبر کرو گے تو داخل ہو گے ورنہ نہیں ہوسکو گے۔پس وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آگے پھر صبر کی نصیحت کرتے ہیں کہ جس پیغام کو تم نے پکڑا ہے اس پیغام کے نتیجہ میں جو عمل صالح اختیار کرتے ہیں ان میں بھی تمہیں صبر کرنا پڑے گا۔بڑے خطرناک مقابلے ہوں گے۔ایک غالب معاشرہ سے تمہاری ٹکر ہوگی لیکن تم نے اس کو تبدیل کرنا ہے۔اس کے زیر اثر خود تبدیل نہیں ہو جانا۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا: إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ی استثنا ہے۔جب سارا زمانہ گھاٹے میں ہوگا یہ لوگ گھانا نہیں کھا رہے ہوں گے، جب سارا زمانہ ہلاکت کی طرف جا رہا ہو گا اس وقت نہ صرف یہ کہ یہ ہلاک نہیں ہوں گے بلکہ زمانہ کو دوبارہ فلاح کی طرف بلا رہے ہوں گے۔لوگوں کو کامیابی کے پیغام دے رہے ہوں گے اور اس زمانہ کو رفتہ رفتہ تبدیل کر رہے ہوں گے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو بھلا کر دنیا میں کبھی کوئی قوم وہ انقلاب بر پا نہیں کرسکتی جو انقلاب مذاہب بر پا کرنا چاہتے ہیں۔غیر مذہبی انقلاب جو آگ سے پکتا ہے اور آگ کھاتا ہے، جو نفرت کی تعلیم دیتا ہے اور نفرت سے نشو و نما پاتا ہے، میں اس انقلاب کی بات نہیں کر رہا۔میں تو اس انقلاب کی بات کر رہا ہوں جس کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے اور قرآن کریم میں یہ ذکر ملتا ہے کہ جب بھی مذہب کے نتیجہ میں کوئی انقلاب برپا ہوا ، ایسے ہی لوگوں نے وہ انقلاب برپا کیا۔ان لوگوں کی یہی صفات ہیں جو اوپر بیان ہوئی ہیں اور یہ تو جہاں تک بیرونی آنکھ کا تعلق ہے یہ مضمون اس سے تعلق رکھتا ہے لیکن اندرونی طور پر بھی ان کے اندر یہی صفات پائی جاتی ہیں۔جب وہ اپنے اندر معاشرہ کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں ، جب وہ اپنے دائرہ کار میں ان لوگوں کو جو پہلے سے ایمان لے آئے ہیں ان کو اعلیٰ