خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 208

خطبات طاہر جلد ۲ 208 خطبہ جمعہ ۱/۸اپریل ۱۹۸۳ء ہوگا پھر وہی خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ والا مضمون شروع ہوتا ہے۔فرمایا پھر مقابل پر جہالت ہوگی، مقابل پر ظلم ہونگے ، مقابل پر سختیاں ہوں گی اس کے جواب میں تمہارے عمل میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو گی۔تم اسی طرح صالح عمل کرتے چلے جاؤ گے اور صبر کے ساتھ صالح عمل کرتے چلے جاؤ گے جس طرح پہلے کرتے چلے آ رہے تھے۔یہاں اعمال صالحہ کے صبر سے مراد یہ ہے کہ انسان ان اعمال صالحہ میں کوئی تبدیلی نہ ہونے دے اپنے اخلاق میں کوئی تبدیلی نہ ہونے دے خواہ کتنی بڑی آزمائش ہو اس کے اخلاق اپنی جگہ قائم رہیں اور ان میں سرِ مو بھی فرق نہ پڑے۔یہ اعمال صالحہ کا صبر ہے۔مختلف طریق پر یہ صبر آزمایا جاتا ہے۔مثلاً ایک چھوٹی جماعت ایک غالب ماحول میں وقت گزار رہی ہے جہاں کا معاشرہ انتہائی گندا اور زہر یلا اور مذہب سے اتنا دور ہے کہ اس فضا میں جا کر رفتہ رفتہ مذہب کی حقیقت پر ہی اعتبار اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔چاروں طرف سے وہ معاشرہ گھیر لیتا ہے اور جس طرح لوہے کو زنگ کھا جاتا ہے اسی طرح وہ معاشرہ چاروں طرف سے اعمال صالحہ کو کھانا شروع کر دیتا ہے۔اس وقت وَتَوَاصَوْا بِالصَّبر کا معنی یہ ہوگا کہ وہ لوگ نہ صرف یہ کہ صبر کے ساتھ نصیحت کرتے چلے جاتے ہیں بلکہ ان کے اعمال صالحہ میں بھی صبر کے پہلو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ایک لمحہ کے لئے بھی ان کے اندرونے میں، ان کے اخلاق میں، ان کے کردار میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔أَشِدَّاءُ عَلَى الكُفَّارِ (افتح ۳۰) میں جو مضمون بیان ہوا ہے اسی قسم کا مضمون یہاں صبر میں بیان ہوا ہے۔پھر اس میں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا دکھ کا پہلو بھی ہے۔لوگوں کو عملاً سزائیں دی جائیں گی ، ان کے خلاف عملاً مخالفتوں کے طوفان اٹھیں گے، فرمایا پھر بھی وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے۔اپنے پیغام پر مسلسل قائم رہیں گے۔یہ جیتنے والوں کی صفات ہیں۔جس قوم میں یہ صفات پیدا ہو جائیں ان کے مقدر میں شکست نہیں رہتی۔لازماً یہ لوگ غالب آیا کرتے ہیں، نہ صرف خود زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کو زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔چنانچہ فرمایا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وہ پھر جن لوگوں کو حق کی طرف بلاتے ہیں ان کو بھی صبر کی طرف بلا رہے ہوتے ہیں یعنی یہ واضح کر دیتے ہیں کہ ہم آج جس حال میں ہیں سوائے صبر کرنے والوں کے ہم میں کوئی دخل نہیں ہو سکتا۔ہم تمہیں مشکلات کی طرف بلانے والے ہیں، ہم تمہیں