خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد ۲ 207 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۳ء دوسرے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اس میں یہ پیغام ہے کہ باوجود اس کے کہ دوسری طرف سے شر پیدا ہوا ہو، مومن کی طرف سے شر کا جواب شر میں نہیں دیا جائے گا۔شر کا جواب سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ دیا جائے گا۔مقابل کے فساد کی کوئی ایسی کوشش نہیں ہوگی جو مومن کو فساد پر مجبور کر دے، اس کا جواب ہمیشہ سلامتی ہو گا۔پس اس طرح قرآن کریم پر غور کرنے سے حق کا مضمون کھلتا چلا جاتا ہے۔مومن کا کام ہے کہ اس دائرہ کار میں رہ کر نصیحت کرے جو دائرہ کا ر قرآن کریم نے اس کے لئے مقرر فرمایا ہے اور اس دائرہ کار میں رہ کر نصیحت کرنا بہت ہی مشکل کام ہے، بڑا ہی صبر آزما مرحلہ ہے۔چنانچہ معا بعد فرماتا ہے وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ہم جانتے ہیں کہ یہ بہت مشکل کام ہے کہ کسی کو حق بات کی طرف بلایا جائے اور حق طریق پر بلایا جائے لیکن وہی لوگ یہ کام کر سکتے ہیں جو صبر کے ساتھ ایسا کریں۔اب صبر میں بھی بہت سے مفاہیم ہیں جو ایک مذکر کو معلوم ہونے چاہئیں۔اس کو پتہ ہونا چاہئے کہ قرآن کریم صبر کے لفظ کو کن معنوں میں استعمال کر رہا ہے۔پس وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ میں ایک تو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جس زمانہ کی ہم بات کر رہے ہیں اس زمانہ کے حالات آنا فانا نہیں بدلیں گے بلکہ ایسے لوگ اس زمانہ کے حالات بدلانے پر مامور ہو جائیں گے جو مسلسل ناکامی کے باوجود پھر بھی اپنے پیغام پر قائم رہیں گے اور بڑے صبر کے ساتھ اور استقلال کے ساتھ اس پیغام کو آگے بڑھاتے چلے جائیں گے۔یہ ایک لمبا دور ہے ورنہ صبر کا مضمون بیچ میں داخل نہیں ہوتا۔یہ ایک لمبی آزمائش ہے۔اگر یہ آزمائش نہ ہو تو صبر کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا اس لئے فرمایا کہ ان کا کوئی ایسا پیغام نہیں ہوگا جو آنا انا انقلاب برپا کر دے۔ہو سکتا ہے ایک نسل بظاہر نا کامی میں فوت ہو جائے ہوسکتا ہے اس کے بعد ایک اور نسل آئے اور وہ بھی بظاہر نا کام رہے لیکن ان کی سرشت میں شکست کھانا نہیں ہوگا۔وہ صابر لوگ صابر بچے پیدا کریں گے اور وہ صابر نسل پھر ایک اور صابر نسل کو جنم دے گی وہ نہیں تھکیں گے اور نہیں ماندہ ہوں گے جب تک کہ انقلاب برپا نہ کر لیں جو بالآ خر انسان کی تقدیر کو بدل دے گا اور گھاٹا کھانے والے انسان کی بجائے فائدہ بخش سودا کرنے والا شخص پیدا ہو جائے گا۔دوسرے صبر کے مضمون میں دکھ کا پہلو بیان ہوتا ہے۔جب یہ فرمایا کہ تم نے حق کے ساتھ بات کرنی ہے اور تمہیں یہ حق نہیں دیا گیا کہ تم نصیحت میں زبر دستی اور جبر کو داخل کر دو تو اس کے بعد کیا