خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 15

خطبات طاہر جلد ۲ 15 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء ہمیں آگے جگہ نہیں ملی ۔ یہ تو کوئی چیز ہی نہیں اس سعادت کے مقابل پر جس سے تم محروم رہ گئے تھے۔ صلى الله عروسه اصل سعادت تو یہ تھی کہ جب حضرت محمد مصطفی علا تمہیں اسلام کی طرف بلا رہے تھے تم ایمان لے آتے لیکن تم اپنی پیٹھیں پھیر کر دوسری طرف جا رہے تھے۔ اس جواب کو سن کر ابو سفیان اور بعض دوسرے سرداروں نے خود ہی فیصلہ کیا کہ اب ہم پتہ تو کریں کہ اس کا حل کیا ہے۔ آخر عرب تھے عزتوں کو صلى الله عروسة با غیرت قوم تھی ۔ اس احساس کے باوجود کہ وہ قصور وار ہیں پھر بھی وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ ان عزاز حاصل کریں جو کھوئی گئی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور پھر حضرت عمرؓ کے پاس چلے گئے ۔ دو آدمیوں کے متعلق پتہ چلتا ہے۔ ایک حارث بن ہشام جو ابو جہل کا سگا بھائی تھا اور دوسرے حضرت سہیل بن عمرو، یہ دونوں حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا امیر المومنین ! ہمیں معلوم ہے کہ ہم سے یہ سلوک کیوں ہوا ہے۔ ہم اس کا شکوہ لے کر نہیں آئے ہم صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا اس کے ازالہ کی کوئی صورت ہے ؟ حضرت عمرؓ کے متعلق لکھا ہے دکھ کی وجہ سے آپ کی آواز گلو گیر ہو گئی ، منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا۔ اس وقت شام میں لڑائی ہو رہی تھی ۔ آپ نے ا اس طرف اشارہ کیا کہ ایک یہ صورت ہے یعنی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے گو تمہارے قصور تمہیں بخش دیئے ہیں لیکن میں جانتا ہوں جب تک تم اپنا خون نہیں بہاؤ گے اس وقت تک چین نصیب نہیں ہو گا اور تم اپنی کھوئی ہوئی عزتوں کو حاصل نہیں کر سکتے ۔ پس بخشش کا ایک یہ نمونہ بھی تھا۔ یہ اثر بھی تھا۔ یعنی بخشش ایک اور حسن میں تبدیل ہو گئی ۔ چنانچہ اس بخشش کے نتیجہ میں قربانی کے ایسے عظیم الشان مظاہرے دیکھنے میں آئے کہ وہ دنیا کی تاریخ میں چاند اور سورج کی طرح روشن دکھائی دیتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت سہیل اور حارث دونوں نے وہ اشارہ سمجھ لیا۔ سہیل نے اپنا سارا خاندان اپنے ساتھ لیا سوائے ایک بیٹی کے جو پیچھے چھوڑ دی گئی اور حارث نے بھی اپنا سارا خاندان ہمراہ لیا اور شمال کی طرف جہاد میں شرکت کرنے کے لئے چلے گئے ۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ صرف وہ بیٹی بچی جو یہاں رہ گئی تھی اور حارث کا ایک بیٹا بچ گیا باقی سارا خاندان یا وہاں شہید ہو گیا یا سفر کی حالت میں انہوں نے جان دے دی۔ (اسد الغابہ فی معرفۃ الصحا بہ ذکر حارث بن هشام ، ذکر سہیل بن عمر و بن هند بن عبد شمس ) پس یہ نیکی جو وہاں نظر آتی ہے اور حسن واحسان کا یہ حیرت انگیز نمونہ جو وہاں دکھائی دیتا ہے اسے پیدا ہوا تھا۔ یہ دراصل حضرت محمد مصطفیٰ علیہ کی بخشش کا ایک چھوٹا سا پھل تھا۔ گویا ہر یہ کہاں صلى عروسه