خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد ۲ 194 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء بارے میں ہدایت دی تھی اور مسلسل یا د رہی ہے اور جب بھی میں نمازیوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو یاد آتی رہتی ہے اس لئے کوئی یہ خیال دل میں نہ لائے کہ میں اسے بھول چکا ہوں۔ یہ جو فیصلہ ہے اس پر بہر حال عملدرآمد ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ سلسلے کو بہتر کارکن دیدے گا۔ انشاء اللہ ۔ مجھے قطعاً کوئی پرواہ نہیں کہ بے نمازی نکل جائیں گے تو ہمارے کام کون کرے گا؟ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بے نمازی نکلیں گے تو کام بہتر ہوں گے اور آپ کو یقین آئے نہ آئے مجھے اس بات پر کامل یقین ہے کیونکہ خدا کا کلام جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ خدا کا کام خدا کی عبادت کرنے والے ہی ادا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ دوسروں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ یہ کام کریں اور اگر وہ اس کو کریں بھی تو احسن رنگ میں نہیں کر سکتے ۔ اس لئے میں ساری انجمنوں کو دوبارہ اس امر کی طرف متوجہ کر رہا ہوں اور ساری جماعت کو سنانا چاہتا ہوں کیونکہ آج مشاورت کے لئے پاکستان کی اکثر جماعتوں کے نمائندے یہاں آئے ہوئے ہیں اسی طرح باہر کی دنیا سے بھی نمائندے پہنچے ہوئے ہیں ۔ آپ سب کے سامنے یہ بات سنانے میں حکمت یہ ہے کہ آپ بھی اپنی اپنی جگہ اسی طرح جواب دہ ہوں گے۔ ہر جماعت کی مجلس عاملہ اور تنظیم خواہ وہ ذیلی انجمن کی ہو یا مرکزی انجمن کی بالکل اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح یہ انجمنیں ذمہ دار ہیں ۔ بعض دفعہ عجیب و غریب واقعات سامنے آتے ہیں کہ ایک جگہ خدام الاحمدیہ کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہورہا ہوتا ہے اور نماز با جماعت کھڑی ہو جاتی ہے لیکن عاملہ کو پرواہ ہی نہیں ہوتی ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اتنے سنجیدہ اور اہم کام میں مصروف ہیں کہ اب ہم نماز سے بالا ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا جب پانی کشتی کے اوپر آئے گا تو ہلاک کر دے گا کیونکہ کشتی میں یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ پانی کو سنبھال سکے اس لئے آپ نے عبادت کا غلام بننا ہے تو زندگی پانی ہے۔ اگر آپ عبادت کو اپنا غلام بنانے کی کوشش کریں گے تو لازماً ہلاک ہوں گے۔ اسی طرح بعض دفعہ امرا کے متعلق پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی میٹنگ میں بیٹھے ہوتے ہیں اور بعض اوقات سنجیدہ باتیں نہیں بلکہ شغل کی باتیں چل رہی ہوتی ہیں اور ادھر نماز ہو رہی ہوتی ہے لیکن امرا کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔ پس جن باتوں کا مرکز پابند ہے انہی باتوں کی جماعتیں ہر جگہ پابند ہیں اس لئے آپ کو اس طرف توجہ دینی پڑے گی اور جماعت کے ذمہ دار دوستوں کو بہترین نمونے قائم کرنے پڑیں گے۔