خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 14

خطبات طاہر جلد ۲ 14 خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۸۳ء ہوتی ہے اور بعض دفعہ پشیمانی پیدا ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: ۴۱) که معاف کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ معافی کے نتیجہ میں (معاف کئے جانے والے آدمی کے دل میں ) پشیمانی پیدا ہوگی اور اسکی اصلاح ہوگی یا بے حیائی پیدا ہوگی۔اگر تم سمجھتے ہو کہ بے حیائی پیدا ہوگی تو تمہیں معافی کی اجازت نہیں ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جہاں یہ دیکھا کہ معاف کرنے سے اصلاح نہیں ہوگی وہاں معاف نہیں فرمایا اور جہاں یہ دیکھا کہ معافی سے اصلاح ہوگی وہاں معاف فرمایا۔چنانچہ ایسی حیرت انگیز اصلاح کے نمونے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔جن لوگوں کو معاف کیا گیا تھا ان کے دلوں میں ایک عظیم الشان انقلاب آ گیا۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج کے لئے مکہ تشریف لے گئے۔وہاں بڑے بڑے رؤوساء آپ سے ملنے کے لئے آئے۔ایک بڑا ہجوم تھا جس میں بہت سے پرانے غلام بھی شامل تھے جو آپ سے ملنے کے لئے حاضر ہوئے تھے ، اس موقع پر حضرت عمر نے نام لے لے کر غلاموں کو آگے بلانا شروع کیا۔رؤوساء مکہ کو دیکھ رہے تھے لیکن ان کو آگے نہیں بلاتے تھے۔چنانچہ ان رؤوساء نے یہ دیکھ کر بڑی سخت ذلت محسوس کی۔یہ وہی جساس والی قوم تھی جو ایک پرندہ کے انڈوں کی چھوٹی سی بات پر شدید قتل و غارت کر سکتی تھی۔بہر حال ایک کے بعد دوسرے غلام کو حضرت عمرؓ آگے بلاتے رہے اور بڑے بڑے سردار پیچھے بیٹھے رہ گئے۔اس وقت ابو سفیان کی متعلق ایک روایت میں آتا ہے کہ وہ بھی انہی لوگوں میں شامل تھا اس نے کہا آج سے زیادہ ذلت کا دن دیکھنا ہمیں کبھی نصیب نہیں ہوا۔اس پر سہیل بن عمر و جو صلح حدیبیہ کے وقت کفار کی طرف سے معاہدہ لکھنے والا اور بڑا سمجھ دار آدمی تھا ،اس نے کہا کہ اس وقت جن لوگوں کو آگے بلایا جارہا ہے یہ وہ ہیں کہ جب تمہیں ہدایت کی طرف بلایا جا رہا تھا تو تم محروم رہے اور لبیک نہیں کہی لیکن ان غلاموں نے ہی تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی آواز پر لبیک کہا اس لئے اس موقع پر ہمیں تو اس بات کا دکھ ہونا چاہئے کہ اس وقت ہم اس عظیم سعادت سے محروم رہ گئے تھے اور اس کے مقابل پر بھلا یہ بھی کوئی سعادت ہے جس سے محرومی کا تم شکوہ کر رہے ہو کہ آج