خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 185
خطبات طاہر جلد ۲ 185 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء کرنے والے بنو گے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب یہ روپیہ فوری طور پر تو واپس نہیں ہو سکے گا۔پھر کیا انتظام چلنا چاہئے۔فرمایا تمہیں مہلت دینی پڑے گی جن لوگوں کے پاس تم نے تجارت پر روپیہ لگایا ہوا تھا ان پر تم یہ احسان کرو کہ وہ تمہیں سود دینا بند کر دیں اور یہ بھی احسان کرو کہ ان کو کچھ مہلت دو جس میں وہ روپیہ واپس کریں اور وہ کامل دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جلد از جلد لوگوں کا سرمایہ واپس کرنے کی کوشش کریں اور اگر واپس نہیں کرتے یا نہیں کر سکتے تو تجارتی اغراض سے سمجھوتہ کریں۔اگر وہ تجارتی غرض سے روپیہ لگانا چاہتے ہیں تو اس کا راستہ تو کھلا ہے پھر وہ اسلامی شریعت کے مطابق نیا سمجھوتہ کریں اور نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہوں تو پھر اس روپے کا استعمال جائز ہو جائے گا۔پس یہی وہ دو طریق ہیں جو کھلے ہوئے ہیں باقی رہا یہ کہ اس نظام کی نشو و نما میں کیا ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔ان کے متعلق جماعت کی طرف سے بعض کمیٹیاں بٹھائی گئی ہیں۔علاوہ ازیں میں جماعت کو ایک صلائے عام بھی دیتا ہوں کہ اس مختصر مضمون کی روشنی میں جماعت کے اہل فکر دوست جو تجارتی ملکہ رکھتے ہیں اور ان کو ان باتوں کی سمجھ ہے ان کو چاہئے کہ وہ جماعت کو مشورہ دیں کہ جب سود پر روپیہ نہیں لگانا اور سود پر حتی المقدور روپیہ نہیں لینا تو پھر احمدی احباب کے لئے تجارت کے کون سے راستے باقی رہ جاتے ہیں اور کس طرح جماعت اندرونی طور پر کوئی ایسا نظام جاری کرے کہ دنیا کو دکھا دے اور لوگوں کو بتادے کہ اسلام کا اقتصادی نظام خدا تعالیٰ کے رحمت والے حصہ کے علاوہ دنیا کے قانون کے لحاظ سے بھی پہنے اور نشوونما پانے کی بہتر حیثیت رکھتا ہے۔اس پر اہل علم بھی غور کریں اور اہل تجر بہ بھی غور کریں اور جہاں تک ممکن ہو اپنی تجاویز پورے غور اور فکر کے ساتھ مجھے بھجوائیں تا کہ وہ کمیٹیاں جو ان باتوں پر غور کر رہی ہیں ان کو وہ بھجوادی جائیں اور وہ ان کو زیر غور لا ئیں۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم پر فضل فرمائے ، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق بخشے۔میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ آپ خدا کی راہ میں جو خرچ کرتے ہیں وہ تو ایک ایسا سودا ہے جس میں آپ کو فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ خدا اپنے فضل سے ہمارے گھر برکتوں سے بھرتا رہا ہے اور بھر رہا ہے اور بھرے گا۔جو لوگ اللہ کے نظام سے محبت کرتے ہیں وہ ان لوگوں سے بھی محبت کرتے ہیں جو خدا کے نظام کے لئے قربانیاں پیش کرتے ہیں اور ان کے دلوں سے خود بخو دایسے پیار