خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 183
خطبات طاہر جلد ۲ 183 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے تو تم کو دکھ نہیں پہنچتا ؟ کیا تم اس بات کو بھول جاتے ہو کہ ایک مسلمان کا غیر مسلم نام رکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑا کرتا صرف معاشرہ میں ایک دکھ پیدا ہو جاتا ہے۔نام بدلنے سے حقیقت کس طرح بدل جایا کرتی ہے۔کسی درخت کو کہتا کہ دیں تو وہ درخت بھونکنا تو شروع نہیں کر دے گا۔مچھلی کا نام سؤ رکھ دیں تو وہ حرام تو نہیں ہو جائے گی اور اسی طرح سؤ رکا نام کوئی بہت اچھا تجویز کر دیں مثلاً اپنے گھر کا پلا ہوا مرغا کہنا شروع کر دیں تب بھی اس کا گوشت حرام کا حرام رہے گا اور اس کے اندر ذرا بھی تبدیلی پیدا نہیں ہوگی۔پس قرآن کریم اس قسم کی جہالت کی توقع نہیں رکھتا کہ اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے یا انسان اپنے ضمیر کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے کہ سود کا نام بدل دے اور کہے یہ تجارت ہے اور اس کا مال گویا پاک ہو گیا ہے۔حرام لازماً حرام رہے گا اور سود بہر حال سودرہے گا۔یہ تو وہ شرطیں ہیں جو فیصلہ کریں گی کہ یہ سودی تجارت ہے یا غیر سودی تجارت ہے۔چنانچہ ربوہ میں بھی میرے علم میں یہ باتیں آئی ہیں کہ بہت سے لوگ خود دوسروں تک پہنچ کر ان کو دھوکہ دیتے ہیں۔وہ ان سے کہتے ہیں کہ دیکھو ہم تمہیں ۲۵ فیصدی منافع دیں گے۔تم ہمیں سرمایہ دے دو ہم تمہیں منافع دیں گے۔ایسے لوگ اپنے نفسوں کو بھی دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں اور خدا کو بھی لیکن قرآن کریم فرماتا ہے وَ مَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ (البقره: ۱۰) حقیقت یہی ہے کہ صرف وہ اپنے نفسوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔وہ نہ خدا کو دھوکہ دے سکتے ہیں نہ خدا کی جماعت کو دھوکہ دے سکتے ہیں اس لئے آج کے بعد اس سودی کاروبار کو کلیتہ ختم ہو جانا چاہئے۔یہ اسلام کے اقتصادی نظام سے مذاق کیا جارہا ہے اور جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔جس جماعت نے دنیا کا مالی نظام بدلنا تھا اگر وہ خود ہلاکتوں کا شکار ہو جائے تو کس طرح وہ دنیا میں تبدیلی لاسکتی ہے۔ع چوں کفر از کعبه بر خیزد کجا ماند مسلمانی اگر خدانخواستہ جماعت احمدیہ پر ہی سودی نظام وار کر گیا اور جماعت اس کے قبضہ میں چلی گئی تو پھر کس طرح سراٹھا کر یہ دنیا میں اعلان کرے گی کہ ہم تمہاری تقدیر بدلنے کے لئے آئے ہیں تمہاری حیات نو ہم سے وابستہ ہے۔وہ کہیں گے کہ تم تو خود ہلاک ہو چکے ہو تم تو خودسود کا شکار ہو بیٹھے ہو، تم کس طرح دنیا کو تبدیل کرو گے؟