خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 178
خطبات طاہر جلد ۲ 178 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء ہے اور ایک دانہ کو سات سو گنا بڑھا سکتی ہے۔زمین تو ہو تھور والی اور کلر والی اور بددیانتی کے کیڑوں کی ماری ہوئی اور آپ وہاں اسلامی اقتصادی نظام ٹھونسنے کی کوشش کریں اور دانے پھینک کر گھر واپس آجائیں تو دانے ہی جل جائیں گے۔آپ کو کچھ بھی واپس نہیں ملے گا۔پس اسلام کے اقتصادی نظام کا ایک اور عظیم الشان پہلو یہ ہے کہ اسلامی نظام دیانتداری کو پہلے پیدا کرتا ہے اور پھر اس مالی نظام کو جاری کرتا ہے اور اس بات کی ضمانت کیا ہے کہ دیانتداری موجود ہے۔اس بات کی ضمانت یہ ہے کہ روپے کی محبت پہلے کم کر دیتا ہے پہلے فرماتا ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرو اور جہاں تک ہو سکتا ہے قرضے دو۔وہ جماعت جو اپنے روپے کو اس طرح پھینکنے کی عادی ہو جائے کہ گویا روپے کی ہلاکت کو قبول کر رہی ہو۔غریب ہوا میر ہو جو کچھ اس کا پس انداز ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ یہ فرمائے کہ مجھے قرض دے دو میں تمہیں واپس کروں گا اور ہوسکتا ہے تمہارا یہ روپیہ مرنے کے بعد واپس ہو۔تو ظاہر ہے ایسا سودا دنیا کی کوئی ہوش مند قوم نہیں کر سکتی لیکن وہ مومن بندے جو خدا کے فضل دیکھ چکے ہوتے ہیں اور اس کے فضلوں کے گواہ بن چکے ہوتے ہیں اور روزمرہ کے معاملات میں خدا کے فضلوں کے مورد بن چکے ہوتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ درست ہے۔چنانچہ ان کو یہ عادت پڑ چکی ہوتی ہے کہ وہ اپنے روپے کو بظاہر منافع اور اس کی واپسی کی توقع کے بغیر خدا کے سپرد کرتے چلے جاتے ہیں اور شکریہ تک قبول نہیں کرتے۔غریب لوگ جن کے اوپر وہ خرچ کرتے ہیں وہ جب ان کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کہتے ہیں۔لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدھر: ۱۰) ہم تو اللہ کے چہرے کی خاطر ایسا کر رہے ہیں۔یہ شکریہ ادا کر کے تم ہماری نیکی کو کیوں بدمزہ کر رہے ہو۔تم ہمیں ان لذتوں میں کھوئے رہنے دو جو ہمیں اپنے رب کی رضا کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے اس لئے ہمارا شکر یہ تک بھی ادا نہ کرو۔پس خدا کے بندوں کے یہ مزاج ہوتے ہیں۔جب ایسے بندے پیدا ہو جاتے ہیں تو ان کے متعلق یہ وہم کرنا ہی دنیا کی بہت بڑی حماقت ہوگی کہ وہ لین دین کے معاملہ میں بددیانتی کریں گے۔جو شخص احسان کے مقام پر کھڑا ہو وہ لازماً احسان کرتا ہے اس لئے وہ جو پہلا مالی نظام یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا نظام ہے وہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ یہ لوگ خدا کی خاطر انصاف اور تقویٰ پر قائم ہوں گے اور مال کی محبت اس حد تک کم ہو چکی ہوگی کہ خدا کی رضا کو چھوڑ کر مال نہیں