خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 174

خطبات طاہر جلد ۲ 174 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء پیش کرتے ہیں وہ اس نیت سے تو پیش نہیں کرتے کہ انہیں واپس ملیں گے لیکن جس کے حضور وہ پیش کرتے ہیں یہ اس کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ لازماً واپس کرتا ہے اور بہت بڑھا کر واپس کرتا ہے۔ہوسکتا ہے اسی دنیا میں ان کا روپیہ اس طرح بڑھ جائے جس طرح ایک دانہ سے سینکڑوں دانے پیدا ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بیج کے طور پر ایک دانہ جو زمین میں ڈالا جاتا ہے اگر وہ ایک ایسی اچھی زمین میں پڑا ہو جس میں نشو ونما کی بہت طاقت ہو تو اس دانہ سے سات بالیاں یعنی شاخیں پھوٹیں اور ہر شاخ کو سو دانے لگیں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ بعد کی دنیا کا سوال نہیں بلکہ خدا تعالیٰ اسی دنیا میں سات سو گنا تک بھی بڑھا سکتا ہے۔بعد کی دنیا میں تو ان گنت ترقی ہے، اس کی تو کوئی نسبت ہی نہیں رہتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ (البقره: ۲۶۲) تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارا روپیہ صرف سات سو گنا تک بڑھنے کی طاقت رکھتا ہے جس زمین میں تم نے یہ بیج ڈالا ہے اس کی نشوونما کی طاقتیں لامتناہی ہیں۔فرماتا ہے یہ تو تمہیں سمجھانے کی خاطر ہم بتا رہے ہیں۔دنیا میں تم روزانہ یہ دیکھتے ہو کہ تم گندم کا بیج زمین میں پھینکتے ہو اور بظاہر اسے پھینک کر اپنے گھر خالی ہاتھ واپس آ جاتے ہو لیکن قانون قدرت اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کو نشو ونما دیتا اور اس میں برکت ڈالتا ہے، اس میں سے شاخیں پھوٹتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں بدل جاتی ہیں یہاں تک کہ بالآخر ایک دانہ کو سات سو گنا زیادہ پھل لگ سکتا ہے۔جس وقت آنحضرت ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی تھی اس وقت تو دنیا نے کبھی ایسا کوئی نظارہ نہیں دیکھا تھا کیونکہ ایک دانہ کا سات سودانوں میں تبدیل ہونا یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ابھی تک پوری طرح سامنے نہیں آیا۔اگر چہ انسان زراعت میں بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے لیکن ابھی تک یہ نہیں ہو سکا کہ گندم کا ایک من بیج کھیت میں ڈالا جائے اور سات سو من گندم اس سے نکل آئے لیکن یہ ضرور ہم دیکھ رہے ہیں کہ قانون قدرت کے مطابق اشیاء میں نشو ونما کی جو صلاحیتیں موجود ہیں ان کے متعلق انسان دن بدن پہلے سے زیادہ علم پا رہا ہے۔دن بدن بعض چیزوں کے بیج میں بڑھنے کی زیادہ طاقتیں ہمارے علم میں آ رہی ہیں اور انسان کو ان سے استفادہ کی قدرت حاصل ہورہی ہے۔چنانچہ ہمارے ملک میں کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ فی ایکڑ چند سیر مکئی کا بیج ڈال کر ایک سو بیس من اوسط پیداوار لی جاسکتی ہے لیکن امریکہ میں ایسے علاقے میں نے دیکھے ہیں جہاں لکھوکھا