خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد ۲ 174 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۳ء پیش کرتے ہیں وہ اس نیت سے تو پیش نہیں کرتے کہ انہیں واپس ملیں گے لیکن جس کے حضور وہ پیش کرتے ہیں یہ اس کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ لازماً واپس کرتا ہے او ہے اور بہت بڑھا کر واپس کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے اسی دنیا میں ان کا روپیہ اس طرح بڑھ جائے جس طرح ایک دانہ سے سینکڑوں دانے پیدا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بیج کے طور پر ایک دانہ جو زمین میں ڈالا جاتا ہے اگر وہ ایک ایسی اچھی زمین میں پڑا ہو جس میں نشو و نما کی بہت طاقت ہو تو اس دانہ سے سات بالیاں یعنی شاخیں پھوٹیں اور ہر شاخ کو سودا نے لگیں ۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ بعد کی دنیا کا سوال نہیں بلکہ خدا تعالیٰ اسی دنیا میں سات سو گنا تک بھی بڑھا سکتا ہے۔ بعد کی دنیا میں تو ان گنت ترقی ہے، اس کی تو کوئی نسبت ہی نہیں رہتی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ ( البقرہ: ۲۶۲) تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارا روپیہ صرف سات سو گنا تک بڑھنے کی طاقت رکھتا ہے جس زمین میں تم نے یہ بیج ڈالا ہے اس کی نشوونما کی طاقتیں لامتناہی ہیں۔ فرماتا ہے یہ تو تمہیں سمجھانے کی خاطر ہم بتا رہے ہیں ۔ دنیا میں تم روزانہ یہ دیکھتے ہو کہ تم گندم کا بیج زمین میں پھینکتے ہو اور بظاہر اسے پھینک کر اپنے گھر خالی ہاتھ واپس آ جاتے ہولیکن قانون قدرت اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کو نشو و نما دیتا اور اس میں ونما اور برکت ڈالتا ہے، اس میں سے شاخیں پھوٹتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں بدل جاتی ہیں یہاں تک کہ بالآخر ایک دانہ کو سات سو گنا زیادہ پھل لگ سکتا ۔ تا ہے۔ جس وقت آنحضرت ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی تھی اس وقت تو دنیا نے کبھی ایسا کوئی صلى الله عروسه نظارہ نہیں دیکھا تھا کیونکہ ایک دانہ کا سات سودانوں میں تبدیل ہونا یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ابھی تک پوری طرح سامنے نہیں آیا۔ اگر چہ انسان زراعت میں بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے لیکن ابھی تک یہ نہیں ہو سکا کہ گندم کا ایک من بیج کھیت میں ڈالا جائے اور سات سومن گندم اس سے نکل آئے لیکن یہ ضرور ہم دیکھ رہے ہیں کہ قانون قدرت کے مطابق اشیاء میں نشوونما کی جو صلاحیتیں موجود ہیں ان کے متعلق انسان دن بدن پہلے سے زیادہ علم پا رہا ہے۔ دن بدن بعض چیزوں کے بیچ میں بڑھنے کی زیادہ طاقتیں ہمارے علم میں آ رہی ہیں اور انسان کو ان سے استفادہ کی قدرت حاصل ہو رہی ہے۔ چنانچہ ہمارے ملک میں کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ فی ایکڑ چند سیر مکئی کا بیج ڈال کر ایک سو بیس من اوسط پیداوار لی جاسکتی ہے لیکن امریکہ میں ایسے علاقے میں نے دیکھے ہیں جہاں لکھوکھہا