خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 12

خطبات طاہر جلد ۲ 12 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء اور یہ تھا لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا حسین مظاہرہ جو حضور اکرم سے رونما ہوا۔ پھر عکرمہ بن ابی جہل کو معاف کرنے کا واقعہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔ وہ ابو جہل جو سب سے زیادہ خباثت اور دکھ دینے میں آگے بڑھ گیا تھا اس کا بیٹا عکرمہ بھی ان لوگوں میں سے تھا جس کو صلى الله عروسه آنحضرت ﷺ نے شروع میں صلى میں معاف نہ نہ کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ یہ وہی عکرمہ ہے جس نے جنگ احد میں خالد بن ولید کے علاوہ غیر معمولی کردار ادا کیا تھا ۔ اس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف پانسہ پلٹنے کا اگر کوئی سہرا کہلا سکتا ہے تو وہ اس کے سر پر تھا۔ یہ نہایت تیز طرار اور بڑا قابل جرنیل تھا۔ یہ فتح مکہ کے موقع پر اس خوف سے بھاگ گیا کہ میں آنحضرت ﷺ کے حلقہ اثر ہی سے نکل جاؤں گا یعنی جہاں تک حضور اکرم ﷺ کا اثر ہے وہاں سے باہر نکل جاؤں ۔ چنانچہ وہ جنوب کی طرف بھاگا اور پھر وہاں سے حبشہ کی طرف جانے کے لئے کشتی میں بیٹھ رہا تھا تو اتنے میں اس کی بیوی وہاں پہنچ گئی اور اسے کہنے لگی تمہارے دماغ کو کیا ہو گیا ہے تم دنیا میں سب سے بڑے محسن اور سب سے زیادہ بخشش کرنے والے سے بھاگ رہے ہو۔ اس نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ مجھے بھی معاف کر دیں گے؟ وہ کہنے لگی تم چل کر دیکھو تو سہی ۔ رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہو گیا کہ مکرمہ کو اس کی بیوی لینے گئی ہے اور شاید اس کو لے کر واپس آجائے اب دیکھیں کہ آپ انتقام کس طرح لے رہے ہیں لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا کیا مفہوم اس وقت ظاہر ہوتا ہے صحابہ کو نصیحت فرمائی کہ دیکھو ! عکرمہ بن ابی جہل نہ کہنا اس سے صلى صلى الله اسکو دکھ پہنچے گا ۔ مردوں کے دکھ تم زندوں میں کیوں منتقل کرتے ہو۔ ابو جہل مر گیا وہ خدا کے حضور صلى الله عليه حاضر ہو گیا اس کے ساتھ جو سلوک ہونا ہے وہ تو اس کے ساتھ ہو گا مگر اس کی وجہ سے تم زندوں کو کیوں دکھ دیتے ہو۔ اس لئے عکرمہ کو ہر گز عکرمہ بن ابی جہل نہیں کہنا۔ جب وہ آیا اور آنحضرت کیا ہے کو خبر ملی تو اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور چادر بھی نہیں لی ۔ چل پڑے اور فرمانے لگے مـــــرحبـــا بالراكب المهاجر۔ مرحبا بالراكب المهاجر اوٹنی کے سوار مہاجر کو مرحبا ، مرحبا! وہ واپس آگیا ۔ (المنتظم فی تاریخ الملوک والاهم ، ذکر عکرمہ بن ابی جھل جلد ۴ صفحه ۱۵۶۔ صفوة الصفوة ، ذکر مکرمہ بن ابی جھل جلد ا صفحه ۷۳۰۔ الاصابة في تمبر الاصابة في تمييز الصحابه، ذكر عکرمہ بن ابی جہل جلد ۴ صفحه ۵۳۸) یہ تھا سلوک حضرت محمد مصطفی اللہ کا اپنے جانی دشمنوں کے ساتھ اور یہ تھا لَا تَثْرِیبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا منظر جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔ آپ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنی