خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 11

خطبات طاہر جلد ۲ 11 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء معافی کا سلوک فرمایا ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ یہ تو کوئی چیز ہی نہیں ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے کیا اثرات ظاہر ہوئے، کہاں کہاں ظاہر ہوئے ، کن کن لوگوں پر وہ ظاہر ہوئے ۔ یہ ہے وہ تفصیل جو غور کے لائق ہے۔ ابوسفیان کی بیوی ہند وہ عورت تھی جس نے حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر چبا لیا تھا اور زبان صلى الله تھا۔ سے خون چاٹا تھا ۔ ٹا تھا ۔ آنحضرت ﷺ کو جنگ احد میں سب سے زیادہ دکھ حضرت حمزہ کی شہادت کا اسقدر بے قراری سے آپ اس دکھ کا اظہار فرماتے تھے کہ میں نے ساری تاریخ میں کسی اور دکھ کا اس طرح ذکر نہیں پڑھا۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر ہند نقاب اوڑھ کر بیعت کرنے والیوں میں شامل ہوگئی۔ آنحضرت ﷺ نے فیصلہ فرمایا تھا کہ اس کو معاف نہیں کروں گا لیکن وہ بیعت کرنے والی صلى الله صلى الله عورتوں میں شامل ہو گئی ۔ آنحضور ﷺ کو اس کی آواز اور حرکتوں سے پتہ چل گیا کہ کون عورت ہے ر سلم صلى الله لیکن آپ کو تو معاف کرنے کا بہانہ چاہئے تھا۔ فرمایا اچھا ٹھیک ہے تم کو بھی معاف کرتا ہوں ۔ وہ ا ایک دفعہ بولی دو دفعہ بولی اس وقت بھی اس نے گستاخیاں کیں ۔ مثلاً آنحضرت ﷺ نے جب بیعت کے الفاظ دو ہرائے تو کہنے لگی کہ مردوں سے تو آپ یہ بیعت نہیں لیتے عورتوں سے کیوں صلى الله علی صلى الله بیعت لے رہے ہیں ۔ آنحضور یہ سمجھ گئے کہ یہ کون ہے؟ پھر اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ ۔ عہد لیا کہ اپنے بچوں کو قتل نہیں کرے گی۔ ہند بولی کہ ہم نے جو بچے پال پوس کر جوان کئے تھے وہ تو جنگ بدر کے دن آپ نے قتل کر دیئے تھے۔ اس لئے آپ کا اور بچوں کا معاملہ باہم رہا، ہم نے پال صلى الله عروسة پوس کر جوان ہی کئے تھے نا۔ اس وقت آنحضرت ﷺ کے زخموں پر نمک پاشی ہورہی تھی۔ ایسا شخص جو اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ آگے سے جواب دے رہا ہے اور گستاخیاں کر رہا ہے اس پر بھی آنحضرت ما صلى الله صلى الله عليه نے جوابا مسکرا کر فرمایا ہند! میں جانتا ہوں تم عقبہ کی بیٹی ہو۔ پھر جب آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ دیکھو چوری بھی نہ کرو۔ اس پر بھر وہ بولی کہ چوری ! بس میں تو ابوسفیان کی تھوڑی سی چوری کر لیتی ہوں ۔ ابوسفیان بھی وہیں تھا۔ اس نے کہا میں اسکو پچھلی ساری چوریاں معاف کر دیتا ہوں، یا رسول اللہ ! آپ بھی معاف کر دیں ۔ کہاں خاوند کے چند پیسے معاف کرنا اور کہاں ہند کو معاف کر دینا جس نے آپ کے چچا کا جگر چبا لیا تھا۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے میں اس کو معاف کرتا ہوں ۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، ذکر هند بنت عتبہ بن ربيعة - السيرة الحلبیہ جلد نمبر ۳ صفحہ ۴۶-۴۷) یہ تھے ہمارے سید و مولی حضرت محمد مصطفی اے عروسه