خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 10

خطبات طاہر جلد ۲ 10 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء عرب قوم ! اب اس کی بیوی کے بھائی کا جواب بھی سنیں۔وہ کہنے لگا میرے مہمان کی اونٹنی کے دودھ دان میں اگر تو نے تیر مارا تو میں خود تمہارا سینہ تیر سے چھید کر رکھ دوں گا۔یہ واقعہ گزر گیا۔کلیب کی بیوی حلیلہ نے صلح صفائی کی بڑی کوشش کی لیکن کھچاؤ پیدا ہو گیا۔آخر ایک دن جب کلیب اپنے اونٹوں کو پانی پلا رہا تھا اتفاقا جساس کے مہمان کی اونٹنی کلیب کے اونٹوں میں آکر پانی پینے لگ گئی اس نے تیر مارا جو سیدھا دودھ دان پر جالگا۔اونٹنی بلبلاتی ہوئی واپس دوڑی اور اپنی مالکہ بسوس جو جساس کی خالہ تھی اس کے دروازہ پر نڈھال ہو کر گر گئی اور دم توڑ دیا۔بسوس نے واویلا کیا کہ اے بنو بکر ! تمہارے مہمان کی اونٹنی کو مار کر تمہیں ذلیل کر دیا گیا ، اٹھو اور بدلہ لو۔جساس نے غصہ میں آکر اپنے بہنوئی کلیب کو قتل کر دیا۔چنانچہ اس پر تغلب اور بنو بکر میں ایک خطرناک جنگ چھڑ گئی جو چالیس سال تک جاری رہی۔(الاغانی جلد نمبر صفحہ ۲۶۔۳) اس میں اتفاقتل وخون ہوا، اتنی عورتیں بیوہ ہو گئیں اور اتنے بچے یتیم ہو گئے کہ خدا کی پناہ۔انسانیت نے اس کے نتیجہ میں وسیع الله پیمانے پر دکھ اٹھائے لیکن عرب اس بات پر قائم رہا کہ ہم معاف نہیں کر سکتے۔ہم بدلہ لیتے ہیں۔یہ تھے حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہم وطن لوگ جن میں آنحضور ﷺ کا نور پھوٹا تھا اور پھر یہ دیکھیں کہ آپ نے معاف کن کو کیا ہے۔کیسے کیسے ظلم کی داستانیں بکھری پڑی تھیں۔اسلام کے ساتھ وابستہ ہو کر آپ کے غلاموں کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹنے والے، مسلمان عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار کر ہلاک کر دینے والے، بچوں کو ذبح کر دینے والے، گھروں سے نکالنے والے، تین سال تک فاقوں کے دکھ دینے والے کوئی ایک دکھ تھا۔بے انتہا دکھ تھے اور آنحضرت علی کے ساتھ حضرت یوسف کے بھائیوں والا سلوک کب ہوا تھا۔آپ کے گرد تو پہرہ لگا ہوا تھا کہ آپ کو زندہ بچ کر جانے ہی نہیں دیں گے۔عرب کے سارے قبائل نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ سب آپ کے قتل میں شامل ہوں گے۔ہر قبیلہ کا نیزہ آپ کے سینے پر پڑے گا۔یہ وہ لوگ تھے جن کو فتح مکہ کے موقع پر معاف کیا گیا تھا اور معاف بھی اس شان سے کیا ہے که لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے صرف ایک فقرہ پر اکتفا نہیں کیا ہے۔اس کے بعد معافی کا جو سمندرکھل جاتا ہے وہ آپ کی صداقت کی ایک عظیم الشان دلیل ہے۔اسکی داستان بڑی طویل ہے۔صلى الله ایک ایک مجرم جس کا آپ قصہ سنیں کہ اس نے کیا کچھ کیا تھا اور کس طرح حضور اکرم ﷺ نے اس سے