خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد ۲ 150 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء ”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے، ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں، کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱ ۲۲) یہ فطرت کی ایک سچی آواز ہے۔ناممکن ہے کہ کسی نہ پانے والے کے دل سے یہ کلمات نکلیں۔اتنی بے اختیار سچائی ہے، اس میں ایسا وفور شوق ہے، ایسا بے اختیار جذ بہ ہے کہ ہر وہ شخص جو انسانی فطرت پر ادنی سی بھی نظر رکھتا ہے وہ صرف اس کلام کو پڑھنے کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا قائل ہو سکتا ہے اور اس خدا کی طرف دوڑنے کے لئے بے چین ہو جائے گا جس کی طرف بلایا جا رہا ہے۔ایک ایک لفظ سچائی میں ڈوبا ہوا ہے اور یہ طبعی نتیجہ ہے خدا کو پانے کا۔دوسرے اگر خدا کی طرف بلانا ہے تو اس طبعی جذبہ سے مجبور ہو کر بلاؤ کہ گویا تم نے اسے پالیا ہے اور خدا کو پانے کے بعد خدا کی طرف جو بلانا ہے اس سے آواز میں ایک اور ہی شان پیدا ہو جاتی ہے۔فرضی خدا کی طرف بلانے والی آواز اور ہوتی ہے اور خدا کو پالینے کے بعد جو بلانے والی آواز ہوتی ہے وہ اور ہوتی ہے۔اس کی بے قراری اور ہو جاتی ہے،اس کی شدت اور ہو جاتی ہے۔وہ آواز بن جاتی ہے جو ابھی آپ نے سنی ہے یعنی ہمارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز جو سچائی سے معمور اور حقیقت کی مظہر ہے۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کو پائے بغیر اس کی طرف کسی کو نہیں بلانا چاہئے ورنہ تمہاری آواز جھوٹی اور کھوکھلی ہو جائے گی۔اس میں طاقت نہیں رہے گی۔پانے والے اور نہ پانے والے کی آواز میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ایک آواز کہتی ہے شیر آیا شیر آیا دوڑنا، اور کوئی اس کی طرف توجہ نہیں کرتا