خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 151

خطبات طاہر جلد ۲ 151 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء اور ایک بے اختیار چیخ نکلتی ہے شیر ! اور ابھی فقرہ پورا بھی نہیں ہو پاتا کہ دنیا اچانک اس کی طرف توجہ کرنے لگ جاتی ہے۔ایک آواز کہتی ہے کہ یہاں بے حد دولتیں ہیں اور کوئی اس کی طرف کان ہی نہیں دھرتا۔ایک آواز بے اختیار دنیا کو کہتی ہے کہ یہاں میں نے سب پالیا ہے، مجھے فلاں چیز حاصل ہوگئی ہے اور فلاں چیز حاصل ہوگئی ہے تو اچانک دنیا اس کی طرف دوڑ نے لگتی ہے۔ظاہری فقروں اور الفاظ کی بناوٹ کے لحاظ سے آپ کو کوئی فرق نظر نہیں آئے گا لیکن وہ کیا چیز ہے جو ان آوازوں میں فرق ظاہر کرتی ہے وہ نفس کی سچائی ہے یا نفس کی سچائی کا فقدان ہے۔پس اُدعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ میں اور مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اپنے رب کو پانے کے بعد لوگوں کو دعوت الی اللہ دو۔فرضی خدا کی طرف نہ بلا ناور نہ کوئی بھی تمہاری آواز پر کان نہیں دھرے گا۔ایک اور جگہ اس مضمون کو اس طرح کھولا گیا کہ اگر تم فرضی خدا کی طرف بلاؤ گے تو اس نام پر جب تکلیفیں تمہیں دی جائیں گی تو تم برداشت نہیں کر سکو گے اور پھر تم پانے والوں میں نہیں رہو گے بلکہ کھونے والوں میں داخل ہو کر اس شعر کے مصداق بن جاؤ گے۔نه خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے لیکن اگر تم نے خدا کو حقیقتا پالیا ہے تو اس کے بعد اس ہستی سے کوئی تمہیں جدا نہیں کر سکتا۔فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا (البقرۃ: ۲۵۷) پھر دنیا کے سارے جبر اور ساری دنیا کے اکراہ بھی تمہیں اپنے خدا سے محروم نہیں کر سکیں گے اور تمہیں اس بات سے باز نہیں رکھ سکیں گے کہ تم اپنے خدا کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔ایک اور جگہ فرمایا انَّ الَّذِينَ قَالُوْارَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا (حم السجدة : ۳۱) کہ وہ لوگ جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر مصائب پر استقامت اختیار کرتے ہیں۔وہی ہیں جو اپنے دعوی میں بچے ہیں انہیں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔تو معلوم ہوا کہ بلانے سے پہلے پانا ضروری ہے ورنہ بلانے کے نتیجہ میں جو مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ان کو انسان برداشت نہیں کر سکتا اور پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آواز میں نہ طاقت پیدا ہوتی ہے نہ شوکت پیدا ہوتی ہے اور نہ قوت قدسیہ آتی ہے۔دلوں کو تبدیل نہیں کر سکتا ایسا انسان جس نے خدا کو پانے کے بغیر کسی کو اس کی طرف بلایا ہو۔