خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 149

خطبات طاہر جلد ۲ 149 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء بھی دیتا ہے لیکن بالعموم اس میں شراکت کو پسند نہیں کرتا لیکن اگر ایسی دولت ہو جس سے دنیا بھی فیضیاب ہو سکے اور اس کی لذتوں میں کبھی کوئی کمی نہ آسکے تو یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کی طرف انگلیاں اٹھتی ہیں اس دولت کی طرف بلایا جاتا ہے اور مزہ پورا نہیں آتا جب تک اور شریک نہ ہو جائیں۔آپ قانون قدرت کا کوئی حسین منظر دیکھ رہے ہوں ساری دنیا بھی اس کو دیکھے تب بھی آپ کی لذت میں کمی نہیں آسکتی۔اسی طرح آپ اس منظر کے مالک رہیں گے جس طرح باقی دنیا مالک بنتی ہیں۔چنانچہ فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دکھانے کا مزہ آتا ہے۔بعض دفعہ موٹر پر سفر کرتے ہوئے کوئی پیاری سی جگہ نظر آئے کسی بچے نے دیکھی ہوتو وہ ضد کرتا ہے کہ چلو بے شک واپس چلو لیکن وہ جگہ میں نے تمہیں ضرور دکھانی ہے۔کیوں دکھانی ہے اس لئے کہ نعمت کو ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ طور پر حاصل کرنے میں ایک لذت ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا posession یعنی ملکیت ختم نہ ہو جائے ، اس کی اپنی ملکیت کے حقوق میں کوئی فرق نہ آجائے۔اس شرط کے ساتھ آپ ہمیشہ دنیا میں دوسروں کی نعمتوں میں شریک کرنے کی تمنا کرتے ہیں بلکہ مزہ ہی نہیں آتا جب تک دوسرا شریک نہ ہو جائے۔جب عید کا چاند نظر آتا ہے تو دیکھنے والا کس طرح بے قرار ہو جاتا ہے کہ باقی بھی دیکھیں۔لوگوں کو پکڑ پکڑ کر دکھاتا ہے، ہاتھ اٹھا اٹھا کر انگلیاں سیدھی کرتا ہے کہ وہ دیکھو وہ عید کا چاند ہے اور اگر کوئی اور نہ دیکھے تو اس کو پورا مزہ ہی نہیں آتا۔اگر پیاسوں کا ایک قافلہ جارہا ہو اور ایک آدمی کو اچانک پانی میسر آجائے مثلاً میٹھے پانی کی ایک جھیل مل جائے جسے سارا قافلہ عمر بھربھی پیار ہے تو اس کوختم نہ کر سکے، وہ تو بے قرار ہو کر ان کو بلائے گا ، کہے گا آؤ میٹھا پانی مل گیا ہے اورا کیلئے آپ کو پانی پینے کا مزہ نہ آئے گا جب تک کہ دوسرے بھی اس میں شریک نہ ہو جائیں۔پس اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبَّكَ میں اور مَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ میں اس حکمت کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ اللہ کو پانے والے ایک ایسے خزانہ کو پالیتے ہیں جو نہ ختم ہونے والاخزانہ ہے۔ایک ایسی نعمت ہے جس پر کوئی زوال نہیں آسکتا اور پھر تنہا اس سے لذت یاب ہونے کو ان کا دل نہیں چاہتا۔وہ بے قرار ہو جاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوں اور اس سے ہم زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہوں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی حقیقت کے پیش نظر اور اسی بنیادی انسانی فطرت کے تقاضے سے اپنے رب کی طرف ان الفاظ میں بلایا: