خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 127

خطبات طاہر جلد ۲ 127 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء لیکن اس کا نمونہ وہ پیش کیا جس نے بدلہ نہیں لینا تھا۔ چنانچہ فرمایا وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ صلى الله کہ اے محمد ! ( ع ) تجھے ہم یہ نہیں کہتے کہ اگر تو چاہے تو بدلہ لے لے اور چاہے تو صبر کرے۔ تیرے لئے یہ ارشاد ہے واصبر تو نے صبر ہی کرنا ہے اور اس بات کو واضح کرنے کے لئے کہ یہ نیا حکم نہیں ہے صلى الله عروسه بلکہ رسول کریم ﷺ کی فطرت کا ایک فیصلہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توثیق کی جارہی ہے صلى الله عروسة ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ ہم جانتے ہیں کہ تو صبر کر رہا ہے یعنی یہ نہیں بتایا کہ اے محمد ! ( ) تو بے صبری دکھا رہا ہے اس لئے ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ بے صبری نہیں کرنی اور صبر کرنا ہے بلکہ یہ فرماتا ہے کہ اے محمد ! ( تو صبر ہی کرتا چلا جا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تو پہلے ہی اللہ کی خاطر صبر کر رہا ہے ۔ پس اس رستہ سے ہٹنا نہیں کیونکہ یہی بہترین رستہ ہے اور مسلمانوں کے لئے گویا دو رستے الگ الگ کر کے دکھا دیئے۔ ان کیلئے دونوں رستے کھلے ہیں یعنی صبر کا رستہ بھی اور انصاف کا بھی اور بدلہ لینے کا بھی لیکن حضرت محمد مصطفی مے کو ایک رستہ پر چلا دیا یعنی صبر کے رستہ پر ۔ اور دراصل صبر کا اعلیٰ ظرف آپ ہی رکھتے تھے۔ اب بتائیے کہ کون ہے جو اس رستہ کو چھوڑ کر اپنے لئے دوسرا رستہ اختیار کرتا ہے۔ انصاف کے تقاضے بھی پورے کر دیئے اور ایک عام اعلان کر دیا کہ اب دوشاخیں چل رہی ہیں تم چاہو تو انتقام کی شاخ کو انصاف کے مطابق اختیار کر لو کوئی حرج نہیں ہے اور چاہو تو صبر والے طریق کو اختیار کر لو اور یہ کہ پرستہ پکڑ لیکن ہم تمہیں یہ بتا دیتے ہیں ہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے صبر والے رستے پر ہی چلیں گے، عليه صلى الله انتقام لینے والے رستے پر نہیں چلیں گے اس لئے اب چاہو تو یہ قبول کر لو اور چاہو تو وہ قبول کر لو۔ صلى الله سه اللہ تعالیٰ کا کتنا پیارا انداز ہے مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرنے کا اس سے زیادہ حسین انداز اختیاری نہیں کیا جا سکتا۔ رسول اللہ ﷺ کواس رستہ پر چلا دیتا ہے اور پھر آنحضرت ﷺ کے صبر کا عليه تجزیہ فرماتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کس قسم کا صبر ہے جو تبلیغ میں مفید ثابت ہوگا ۔ فرمایا وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ اب دیکھئے صبر دو قسم کے ہوا کرتے ہیں ایک غصے کا صبر اور ایک غم کا صبر ۔ یہ دو ہی صبر ہیں جن سے انسان کو واسطہ پڑتا ہے۔ ایک آدمی کو کسی دوسرے کی حرکت پر شدید غصہ آرہا ہے اور وہ صبر کر رہا ہے۔ ایک صبر یہ ہوتا ہے کہ آدمی شدید غم محسوس کر رہا ہے اور پھر بھی صبر کرہا ہے۔ صبر کے ساتھ یہاں بھی دور ستے بن گئے۔ جانتے ہو کس صبر کی طرف ہم تمہیں بلا رہے ہیں۔ یہاں یہ صبر کی وہ راہ ہے جو حضرت محمد ہو ہم بلا یہاں یہ صر وہ راہ ہے