خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 126
خطبات طاہر جلد ۲ 126 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء ایسی صورت پیدا ہو جائے تو فرماتا ہے کہ اگر تم یہ فیصلہ کرو کہ دشمن سے اس کے ظلم کا بدلہ لینا ہے تو ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ جتنا تم پر ظلم کیا گیا ہے اس سے ایک انچ بھی زیادہ آگے نہیں بڑھنا یعنی جس حد تک دشمن تم پر ظلم کر رہا ہے اس کا جواب دینے کا ہم تمہیں حق دیتے ہیں۔یہ اعلان فرما دیا ہے لیکن اس طریق پر اعلان فرمایا کہ بِمِثْلِ مَا عُو قِبْتُم با یعنی شرط یہ ہے کہ پہل دوسرے نے کی ہو، زیا دتیاں اور سفاکیاں اور ظلم وستم کا آغاز مد مقابل نے کیا ہو، پھر تمہیں ہم حق دیتے ہیں کہ اس کے بعد اپنے دفاع میں ویسا ہی کرو لیکن اس سے آگے نہیں بڑھنا۔لیکن یہاں بات ختم نہیں کرتا بلکہ فرماتا ہے وَلَبِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصّبِرِینَ کہ یاد رکھو اگر تم صبر سے کام لوتو اللہ تعالیٰ تمہیں بتاتا ہے کہ صبر کرنے والے زیادہ کامیاب ہوا کرتے ہیں اور صبر کرنے والوں کا اپنے لئے یہی اچھا ہوتا ہے کہ وہ بدلہ نہ لیا کریں۔خصوصاً دینی مقابلوں میں اور ہر معاملہ میں صرف نظر سے کام لیتے چلے جائیں اور اپنی برداشت اور حوصلے کے پیمانے بڑھاتے چلے جائیں لیکن عجیب خدا ہے اور ایسا انصاف ہے خدا کا کہ اپنے بندوں کو حق بہر حال دیتا ہے۔فرماتا ہے کہ اگر تم پر ظلم ہوا ہے اور تم اس حد تک مقابلہ کرو جس حد تک ظلم ہوا تو تم پر کوئی حرف نہیں۔خدا یہ نہیں کہے گا کہ میں تمہیں سزا دیتا ہوں تم نے ایسا کام کیوں کیا۔ہاں اللہ تعالیٰ بطور نصیحت فرماتا ہے کہ اگر اپنا حق چھوڑ دو، صبر سے کام لو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔اب دیکھ لیجئے جو خطاب اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّک میں واحد سے شروع ہوا تھا اس نے اجتماعیت اختیار کر لی اسی لئے میں نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ تبلیغ کا یہ کام صرف محمد مصطفی ﷺ تک محدود نہیں بلکہ آپ کے ماننے والوں پر بھی فرض ہے ورنہ مخاطب تو آنحضور کو کیا گیا تھا اچانک یہ سارے مسلمان بیچ میں کہاں سے شامل ہو گئے۔واحد کا صیغہ جمع میں تبدیل ہو گیا اور سب کو اجازت دی جارہی ہے کہ چاہو تو تم بدلہ لولیکن ہم تمہیں مغفرت کی تعلیم دیتے ہیں۔اور اب پھر یہ کلام واپس لوٹے گا اور واحد کی بات شروع کر دے گا اور اس طرز کلام میں عجیب حسن پیدا ہو جائے گا کہ کبھی روئے سخن واحد سے جمع میں بدل جاتا ہے اور کبھی جمع سے واحد کی طرف لوٹ جاتا ہے۔بہر حال مسلمانوں کو بدلہ لینے کی اجازت دی کیونکہ ہر قسم کے مزاج کے لوگ ہوتے ہیں۔بعض لوگ برداشت نہیں کر سکتے ، بعض برداشت کر سکتے ہیں، بعض کو عادت ہے ، بعض کو عادت نہیں ہے، اس لیے انسانی فطرت کو مدنظر رکھ کر اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی کہ جتنا ظلم ہوا ہے اتنا بدلہ لے لو