خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 123

خطبات طاہر جلد ۲ 123 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء ہے اور دل پر اثر کر جاتی ہے۔پس دلیلوں کا نمبر بعد میں آئے گا اس کا بھی قرآن کریم ذکر کرتا ہے۔لیکن کہتا ہے ہمیشہ بات موعظہ حسنہ سے شروع کرو۔تم لوگوں کو یہ بتایا کرو کہ بھائی مجھے تم سے ہمدردی ہے تم لوگ ضائع ہو رہے ہو، یہ معاشرہ تباہ ہورہا ہے، کیوں تباہ ہورہا ہے اس پر غور کرو۔دیکھو! اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے آتے ہیں اور بلا کر چلے جایا کرتے ہیں اور قو میں غافل رہ جایا کرتی ہیں۔میں تمہیں پیغام دیتا ہوں ایسا آنے والا آ گیا ہے۔تم اس کو قبول کرو۔اب اس میں کوئی دلیل نہیں دی گئی یعنی کوئی ایسی دلیل نہیں دی گئی جس کے جواب میں کوئی الٹا یہ کہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔وہ آپ کی بات مانے یا نہ مانے لیکن اس اصول کو بہر حال جانتا ہے کہ یہی ہوتا چلا آیا ہے۔خدا کی طرف سے آنے والے آتے ہیں ان کو بغیر پہچان کئے رد کر کے اور دھکے دے کر رخصت کیا جاتا ہے اور پھر وہ بھی دن آتے کہ حسرت سے لوگ ان وقتوں کو یاد کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: امروز قوم من نشناسد مقامِ من روزے بگریہ یاد کند وقت خوشترم کہ دیکھو آج کا دن ایسا دن ہے کہ میری قوم نے میرے مقام کو نہیں پہچانا لیکن آج میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ وقت آنے والا ہے کہ آہ وزاری کے ساتھ بلک بلک کر رویا کریں گے کہ کاش اس وقت ہم امام وقت کے ناصرین میں لکھے جاتے۔پس یہ جو نصیحت ہے، یہ قانون قدرت سے تعلق رکھنے والی ایسی باتیں ہیں جو دراصل ہر شخص کے دل کی آواز ہوتی ہیں اور جب وہ آپ کے منہ سے نکلتی ہیں تو یہ رد نہیں کی جاسکتیں کیونکہ ہر دل کی اپنی ایک کیفیت ہوتی ہے اس لئے قوم کے مزاج کو پہچان کر اس کے دکھتے ہوئے بدن پر ہاتھ رکھ کر اس کی نبض پر اپنی انگلیاں جما کر جو بات بھی آپ کرتے ہیں وہ موعظہ حسنہ ہے یعنی ایسی بات جو دل سے نکلے اور دل میں ڈوب جائے اس لئے قرآن کریم کہتا ہے کہ بحث میں جلدی نہ کیا کرو حکمت کے ساتھ موعظہ حسنہ شروع کرو تا کہ لوگ جان لیں کہ تم ان کے ہمدرد اور سچے ہو۔لوگ سمجھ جائیں گے کہ تمہیں صرف اپنی ذات میں دلچسپی نہیں ان کی ذات میں بھی دلچسپی ہے۔یہ سب کچھ ہونے کے باوجود قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ پھر بھی وہ لوگ تم سے لڑیں گے۔ان