خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 114
خطبات طاہر جلد ۲ 114 خطبه جمعه ۲۵ / فروری ۱۹۸۳ء ٹوٹ جائیں۔گویا جتنا بڑا بوجھ تھا اتنا ہی بڑا علاج بھی عطا فر ما دیا۔اتنی ہی بڑی مقابل پر طاقت بھی عطا فرما دی۔پس حکمت کے تقاضے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ سب سے پہلے ہمیں تاریخ پر نظر ڈالنی چاہئے اور تاریخی واقعات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اس دشمنی کا علاج اپنی بڑھی ہوئی محبت اور حد سے زیادہ تلطف سے ہم دیں گے تب ہماری بات مانی جائے گی ورنہ نہیں مانی جائے گی۔حکمت کا دوسرا تقاضا جسے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ ہے موقع اور محل کے مطابق بات کرنا۔ہر بات اپنے موقع پر اچھی لگتی ہے۔ایک آدمی کو اپنے کام میں جلدی ہے یا خیالات میں افراتفری ہے اور آپ اس کو پیغام دینا شروع کر دیں تو یہ بات موقع اور محل کے مطابق نہیں ہے۔اسی طرح اگر ایک آدمی اتنا کمزور ہے کہ وہ سوسائٹی سے ڈرتا ہے۔اگر آپ مجلس میں جا کر اس طرح اس سے گلے ملیں گویا وہ آدھا احمدی ہو چکا ہے یا آدھے سے زیادہ احمدی ہو چکا ہے تو اس طرح آپ اس کو بد کا دیں گے۔وہ خوف محسوس کریگا کہ اوہو میں تو پکڑا گیا ایسے تعلق میں کہ اب دنیا مجھے ذلیل کر دے گی۔یہ بھی حکمت کے خلاف ہے۔چنانچہ اس مضمون کو آپ غور سے پھیلا کر دیکھیں تو بہت سے دوست تبلیغ کے معاملہ میں ایسی غیر حکیمانہ باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ایک طرف سے وہ دوست بنارہے ہوتے ہیں تو دوسرے رستے سے دوستوں کو باہر نکال رہے ہوتے ہیں۔پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ جب نفرت ہو تو اچھی چیز بھی پیش کی جائے تو انسان اس کو پسند نہیں کرتا۔جب تک پیش کرنے کا طریقہ اتنا اچھا نہ ہو کہ وہ اس نفرت پر غالب آجائے اس وقت تک تبلیغ کارگر نہیں ہوتی۔مثلاً اگر ایک شخص دشمنی کی حد تک مخالفت کرتا ہے۔آپ اگر اس کو کھانا پیش کریں تو بسا اوقات وہ بھوکا بھی ہوگا تو کہے گا مجھے اس میں دلچسپی نہیں، جاؤ تم کھاؤ۔لیکن اگر اس کو اس طریق پر کھانا پیش کیا جائے کہ گویا آپ بچھ گئے ہیں، آپ کی جان اس پر فدا ہورہی ہے تو وہ دشمن بھی ہوگا تو بعض دفعہ اس کے دل میں انسانیت جوش مارے گی اور وہ کہے گا کہ یہ میرے سامنے اتنا گر رہا ہے تو میں ایک لقمہ کھالوں۔اس کے برعکس بعض ایسے بیوقوف بھی ہوتے ہیں جو دوست سے زیادہ بے تکلف ہو جاتے ہیں۔دوست کو اپنے گھر بلایا ہوا ہے اور اس سے ایسی بے تکلفی سے پیش آتے ہیں کہ جو بد تمیزی کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔کہتے ہیں اچھا، کھانا ہے تو کھا ؤور نہ بھاگ جاؤ۔وہ