خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 113

خطبات طاہر جلد ۲ 113 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء کہ میں نے بیان کیا۔ کیا ہے ایک لامتناہی مضمون پر مشتمل ہیں ۔ لیکن میں اس وقت چند ایک کی وضاحت کر دیتا ہوں تا کہ جب آپ کو میں مبلغ بنانا چاہتا ہوں تو آپ کو تبلیغ کے ان تقاضوں کا بھی علم ہو جو قرآن آپ سے کرتا ہے۔ اس کے بغیر تو بغیر ہتھیا لڑنے والی بات ہوگی ۔ حکمت سے بلانا جبر سے بلانے کے بالکل برعکس ہے۔ حکمت سے بلانے کی ایک مثال یہ ہے کہ کوئی بچہ دیوار کے کنارہ پر پہنچا ہواور گرنے والا ہو، اگر آپ اس کو بلند آواز سے بھی بلائیں گے تو خطرہ ہے کہ دوسری طرف جا پڑے۔ بعض دفعہ زمنیداروں کے گھوڑے چھٹ جاتے ہیں ۔ اگر ان کی طرف کوئی بے وقوفی سے دوڑ پڑے تو وہ اور بھی دور نکل جاتے ہیں اور کبھی قابو نہیں آتے ۔ ان کو پچکار کر کبھی ہاتھ میں کوئی چیز دکھا کر کبھی چارہ کاٹ کر لے لیا اور وہ دکھا کر بڑے پیار سے بلانا پڑتا ہے۔ چنانچہ جس طرح جانور بدکتے ہیں اسی طرح انسان بھی انسانوں سے بدکتے ہیں۔ تاریخ مذاہب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سب سے زیادہ بدکنے کا منظر اس وقت دکھائی دیتا ہے جب خدا کی طرف سے کوئی بندہ ظاہر ہوتا ہے۔ جب خدا کی طرف سے کوئی بلانے والا آتا ہے تو اس وقت قوم سب سے زیادہ بد کا کرتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم اس منظر کو یوں پیش کرتا ہے کہ اے محمد مصطفیٰ " ! یہ لوگ تجھ سے اس طرح بھاگ رہے ہیں، تیرے پیغام سے اس طرح بلک رہے ہیں جیسے شیر سے دوسرے جانور ۔ مثلاً بھیڑ، بکریاں اور گائیں وغیرہ بدک جایا کرتی ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم نے فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ (المدثر :۵۲) کہ کر اس کا نقشہ کھینچا ہے۔ جس طرح شیر کی دہشت ہوتی ہے کہ وہ کھا جائے گا اور کمزور جانور اس سے ڈر کر بے اختیار بدکتے ہیں ۔ اسی طرح گویا لوگ تیرے پیغام سے بلک رہے ہیں ۔ چنانچہ حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ ہم کس کی طرف بلانے والے ہیں ۔ تاریخ عالم ہمیں کیا بتا رہی ہے کہ ایسے پیغامات کا نتیجہ کیا نکلا کرتا ہے۔ قرآن کی تاریخ بڑی واضح ہے۔ سب سے پیارا قول تو یہی ہے کہ خدا کی طرف بلاؤ۔ خدا کی طرف بلانے کے نتیجہ میں لوگ سب سے زیادہ متنفر ہوا کرتے ہیں ۔ تو اس حکمت کا طبعی تقاضا یہ نکلا کہ اتنی ہی زیادہ نرمی ہونی چاہئے ۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو اس طرح ظاہر کیا کہ آنحضرت ﷺ کو رحمۃ للعالمین قرار علي دے دیا۔ فرمایا کہ چونکہ اس پر بوجھ بہت بڑا ہے اور دنیا اس سے بدکنے والی ہے اس لئے اس کا جواب یہ ہے کہ ساری دنیا سے اتنا پیار کرنے والا ہو کہ اس کا پیار غالب آجائے اور مقابلہ میں مخالفین کی نفرتیں صلى -