خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 112

خطبات طاہر جلد ۲ 112 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء میں چند منٹ لگے۔اس توقف کے بعد حضور نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا ) میں یہ بتا رہاتھا کہ اُدْعُ إلى سَبِيلِ رَبِّكَ میں آنحضرت ﷺ کو جو یہ حق دیا کہ آپ اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلائیں تو اس میں گویا آزادی مذہب اور آزادی ضمیر کا بھی اعلان کر دیا گیا۔کیونکہ اگر ایک شخص کو یہ حق ہے کہ اس رب کی طرف دنیا کو بلائے جس رب کو وہ حقیقتا رب سمجھتا ہو تو تمام دنیا میں ہر انسان کو یہ حق مل جاتا ہے ورنہ ایک کو بھی نہیں ملتا اس لئے اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رب میں ایک عظیم الشان اعلان ہے اور اس کے ذریعہ تمام دنیا کے ہر انسان کو اپنے رب کی طرف بلانے کی ایک ایسی آزادی دی گئی ہے جسے دنیا میں کوئی چھین نہیں سکتا۔اگر ایک کی آزادی پر تبر رکھو گے تو تمام دنیا میں ہر انسان کی آزادی پر تبر پڑ جائے گا۔اس مضمون کو ظاہر کرنے کے بعد اب آگے جا کر یہ آیت ایک اجتماعی شکل میں مسلمانوں سے خطاب کرنے لگے کی اور پھر آنحضرت ﷺ کی طرف لوٹ آئے گی۔یہ ایک بہت ہی پیارا فصیح و بلیغ کلام ہے جس کی کوئی مثال آپ کو دنیا میں نظر نہیں آسکتی۔جب یہ فرمایا اُدْعُ اِلى سَبِيلِ رَبِّكَ تو اس ضمن میں پہلی بات جو تبلیغ کی حکمت عملی کے طور پر بیان فرمائی گئی وہ ہے بِالْحِكْمَةِ اور پھر فرمایا وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ - موعظہ حسنہ یعنی اچھی بات جس کی طرف بلانا مقصود ہے، اس کو بعد میں رکھا اور بِالْحِكْمَةِ کو پہلے رکھ دیا۔پھر آخر پر فرمایا وَجَادِلْهُمْ۔اب ان سے تم مقابلہ کرو، مجادلہ کرو، لیکن بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ایسے رنگ میں مجادلہ کرو جو نہایت ہی حسین ہو بلکہ تمام حسنوں سے بڑھ کر حسین ہو۔بِالْحِكْمَةِ میں حکمتوں کا ایک بہت ہی وسیع مضمون ہے۔ایک چھوٹے سے لفظ کے اندر مسلمان کو تبلیغ کے ایک بنیادی اصول کی طرف توجہ دلا دی ہے۔ہر شخص کی حکمت الگ ہوتی ہے، ہر ماحول کی حکمت الگ ہوتی ہے، ہر وقت کی حکمت الگ ہوتی ہے، ہر قوم کی حکمت الگ ہوتی ہے۔اس لئے اس لفظ کو آزاد چھوڑ دیا گیا تا کہ حسب حال جو بھی حکمت کا بہترین طریق ہے وہ تم اختیار کر سکو۔اس میں مومن کے لئے غور اور تدبر اور فکر کی ایک عظیم الشان دعوت ہے۔کوئی مومن جو اس آیت کے تابع مبلغ بننا چاہے جب تک وہ اپنے دماغ کو بڑی گہرائی اور بصیرت کے ساتھ استعمال نہیں کرتا وہ مومن بننے کا اور مبلغ بننے کا حق نہیں رکھتا۔حکمت میں جو مختلف امکانی پہلو ہیں وہ تو جیسا