خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد ۲ 111 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء پس اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبَّت میں آنحضرت ﷺ کا خدا ہے جو پیش نظر ہے۔فرمایا تمام دنیا کو خدا کے اس وسیع تر تصور کی طرف بلاؤ جو محمدمصطفی ﷺ کے اوپر ظاہر ہوا۔پھر حسب توفیق وحسب مراتب کوئی اس خدا کے بعض جلووں کا مستحق اور حقدار بن جائے گا، کوئی بعض دوسرے جلووں کا مستحق اور حقدار بن جائے گا۔مگر محد مصطفی ﷺ کا خدا جس جس پر جتنا جتنا بھی ظاہر ہوگا وہ اس کے لئے الله رحمتوں کے ابدی اور لامتناہی سلسلے کھولتا چلا جائے گا کیونکہ محمد مصطفی علیہ رحمۃ للعالمین ہیں اور آپ کا خدا رب العالمین۔گویا صرف یہی دو کھڑکیاں ہیں جن کے رستے ہم محمد مصطفی معہ کے رب کا تصور باندھ سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ مضمون تو ایک نہ ختم ہونے والا مضمون ہے۔قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ پر ظاہر ہونے والے خدا کا جو تصور پیش کیا ہے اس کا تمام کائنات کے مذاہب کے مشتر کہ تصور سے بھی موازنہ کر کے دیکھیں تو دل اس اطمینان سے بھر جائے گا کہ یہ خدا ان سب کے خداؤں کی مجموعی شان سے بھی کہیں زیادہ بلند و برتر ہے۔ذات وہی ہے اس بات میں تو کوئی ابہام صلى الله نہیں رہنا چاہئے لیکن وہ ذات ظاہر کس طرح ہوئی، یہ ہے فرق۔اسی طرح آنحضور ﷺ پر اس ذات کی جلوہ گری باقی تمام انبیاء پر ظاہر ہو نیوالے خدا کی جلوہ گری سے کمیت کے لحاظ سے بھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی ارفع اور اعلیٰ ہے۔پس اتنے عظیم الشان پیغام کے آپ لوگ امین بنائے گئے ہیں جب تک اس رب سے تعلق پیدا نہیں ہو گا اس کا حق کس طرح ادا کریں گے اور اس کے امین کس طرح بنیں گے اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دے دیا گیا کہ چونکہ تمہارا رب ، رب العالمین ہے اس لئے دنیا کے تمام مذاہب اور تمام لوگوں کو تم نے مخاطب کرنا ہے۔کوئی ایک خیال، کوئی ایک نظریہ، کوئی ایک خطہ ارض کوئی کالا ، کوئی گورا اس پیغام سے باہر نہ رہے اور اسے اس طرح عام کر دیتا ہے کہ زمین کا کوئی چپہ ایسا نہ رہے جو حضور اکرم ﷺ پر ظاہر ہونے والے خدا کی رحمت سے محروم رہ جائے۔پھر اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبَّت میں آزادی مذہب کا بھی اعلان کر دیا گیا اور وہ اس طرح که اگر آنحضرت ﷺ کو اپنے رب کی طرف بلانے کا حق ہے تو لا ز ما تمام دنیا میں ہر شخص کو اپنے اپنے تصور کے مطابق رب کی طرف بلانے کا حق ہے۔(اس موقع پر اچانک لاؤڈ اسپیکر بند ہو گیا جسے ٹھیک کرنے