خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 110

خطبات طاہر جلد ۲ 110 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء کا خدا ظاہر ہوا لیکن صرف ایرانیوں کے لئے۔پس اس مضمون میں ربک کہہ کر جو نسبت دی گئی ہے اس میں بہت ہی وسیع مضمون بیان کر دیئے گئے ہیں۔قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی رب محمد (ﷺ) کی صفات بیان کی گئی ہیں، اہل علم اگر غور کریں تو ان کو ہر دوسرے مذہب کے مقابلہ میں ان صفات میں ایک امتیازی فرق نظر آئے گا۔غرض اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کو اس خدا کی طرف بلاؤ جو آنحضرت ﷺ کا خدا ہے اسی لئے یہاں مخاطب صرف حضور اکرم ﷺ کو کیا گیا ہے اگر چہ پیغام تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔یہ تو نہیں فرمایا کہ اے محمد ! تو اکیلا نکل جا اور تبلیغ شروع کر دے اور تیرا کوئی ساتھی تیرے ساتھ نہ چلے۔آنحضرت ﷺ کو مخاطب کیا گیا لیکن پیغام تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔اب سوال یہ ہے کہ پھر رَبِّكُمُ کیوں نہیں کہا؟ اس لئے نہیں کہا کہ اس معاملہ میں جہاں تک صفات باری تعالیٰ کا تعلق ہے اس میں ہر انسان کا رب مختلف ہو جاتا ہے۔اتنا بدل جاتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کا خدا گویا الگ الگ ہے۔اس میں کیا حکمت ہے؟ حضور اکرم ﷺ نے اس حکمت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ( صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ و یحذرکم اللہ نفسہ ) میں تو اپنے بندوں کے ظن کے مطابق اپنی شکلیں ڈھال لیتا ہوں۔جیسا جیسا کسی کا وسیع حوصلہ ہوگا ویسا ہی وسیع خدا اس پر جلوہ گر ہوگا۔جیسا جیسا تنگ نظر انسان ہو گا ویسا ہی گویا تنگ صفات والا خدا اس پر ظاہر ہوتا اسے محسوس ہوگا۔اس مضمون میں ایک اور بہت بڑے فلسفیانہ مسئلہ کو حل کر دیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ تو لا متناہی ہے لیکن مخلوق لا متناہی نہیں اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر خدا تعالیٰ کا اپنی ہر مخلوق سے تعلق کیسے قائم ہوسکتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس کا حل یہ پیش کر دیا کہ میں تو تمہارے ظروف کے مطابق ظاہر ہوتا ہوں ورنہ تو کوئی ظرف ایسا ہے ہی نہیں جو خدا کے تمام جلووں کو اپنی ذات میں سمیٹ سکے۔پس یہ خدا کی رحمت کا ایک نشان ہے جس کی حضور اکرم ﷺ نے اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی ہی میں خبر دی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تو اپنے بندہ کی طاقت کے مطابق اس پر ظاہر ہوتا ہوں۔اگر اپنی طاقت کے مطابق ظاہر ہوں تو تمام کائنات میں ایک بھی وجود ایسا نہیں جو میری ذات کو اپنے دل کے تصور کے طور پر بھی جگہ دے سکے۔