خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 104

خطبات طاہر جلد ۲ 104 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء خواہ وہ احسان کتنا ہی بے محل ہو ، آنحضرت ﷺ ویسے انسان نہیں تھے۔آپ حسن عمل کے قائل تھے، آپ موقع اور محل دیکھا کرتے تھے ، جہاں معافی فوری فائدہ پہنچاتی تھی وہاں فوری طور پر معاف کیا کرتے تھے ، جہاں وقت درکار ہوتا تھا وہاں انتظار کیا کرتے تھے۔آنحضرت ﷺ کے اس فیصلہ میں یہ حکمت نظر آتی ہے کہ مسجد نبوی میں پانچ وقت نماز میں ہو رہی تھیں اور وہ ایک ستون کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ویسے تو اس کو تبلیغ کرنے کا وقت نہیں تھا تو آنحضور علیہ کا منشائے مبارک یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ تین دن ہماری صحبت میں رہ جائے پھر دیکھیں گے کہ اس کا دل کس طرح بیچ کر نکلتا ہے۔بہر حال وہ چپ کر کے دیکھتا رہا کہ یہ کیسے لوگ ہیں ، کیا کرتے ہیں، دن کو بھی مسجد آباد ہو جاتی ہے اور رات کو بھی آنسوؤں سے تر کی جاتی ہے۔یہ عجیب قسم کے خدا کے بندے ہیں۔پس جب وہ مسلمانوں کے اثر سے مغلوب ہو گیا اور ذہنی طور پر قبول حق کے لئے تیار ہو گیا تو حضور اکرم ﷺ نے اسے آزاد کرنے کا فیصلہ فرمایا۔آپ نے فرمایا اس کے بند کھول دواب یہ کہیں نہیں جاسکتا۔مراد یہ تھی کہ یہ اب اسلام کے حسن کا اتنا گرویدہ ہو چکا ہے۔اب یہ بندھن کھول بھی دو گے تب بھی دوبارہ غلام بن کر آئے گا اور ایسا ہی ہوا۔پس حسن عمل میں حکمت بھی ضروری ہے۔حکمت کے ساتھ ایسا فعل کریں جو صرف ظاہر میں اچھا نظر نہ آئے بلکہ اس کے حسن میں گہرائی ہو۔آنحضرت عمل کبھی بھی کسی بھی حکمت کا دامن چھوڑ کر کوئی فیصلہ نہیں کیا کرتے تھے ہر فیصلہ کے پیچھے حکمت کار فرما ہوتی۔آپ کا ہر فیصلہ بڑا گہرا اور حکمت کا سر چشمہ دکھائی دیتا ہے۔آپ کسی واقعہ پر ٹھہر کر غور کریں اور اس کے اندر تہہ تک غوطہ ماریں آپ کو موتی مل جائیں گے۔آپ تلاش کریں آنحضور ﷺ کا کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جس کے اندر گہرےحکمت کے موتی پوشیدہ نہ ہوں۔غرض یہ وہ طریق تبلیغ ہے جو قرآن کریم نے سکھایا اور یہ وہ نتائج ہیں جو قرآن کریم کے بیان کے مطابق لازماً نکلا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی نکلے۔ہم نے بھی اپنی آنکھوں سے بارہا یہ نتیجے نکلتے دیکھے ہیں۔ابھی چند ہفتے ہوئے لاہور میں اکٹھے بیٹھنے کا موقعہ ملا۔کسی گھر میں مدتوں سے ایک خاتون رہ رہی تھیں وہ احمدی نہیں ہوتی تھیں۔مطالعہ بھی کرتی رہیں، بحثیں بھی کرتی رہیں۔اب جب وہ احمدی ہو ئیں تو اس وقت پھر اس آیت فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ کا جلوہ ہم نے دیکھا۔چنانچہ وہ احمدی ہونے کے بعد کئی دن روتی رہیں کہ میں احمدی تو