خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 102

خطبات طاہر جلد ۲ 102 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء ہو گئے اور دکھ اٹھانے والے ملنے شروع ہو گئے اور دکھ اٹھانے والوں کا یہ قافلہ آگے بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ انقلاب آیا جس کے متعلق فرمایا کہ تم یہاں بیٹھ کے آج مڑ کر تاریخ کو دیکھتے ہو تو سمجھتے ہو اچانک ہو گیا اچانک نہیں ہوا تھا۔اس کے پیچھے تو بہت خون بہائے گئے تھے، امنگوں کے خون، جذبات کے خون ، اپنے عزیزوں کے خون دینے سے دریغ نہیں کیا گیا تھا، اپنی تمام خواہشات ان اعلیٰ مقاصد کی بھینٹ چڑھا دی گئیں تھیں یہ صبر جب لمبا ہوا تب اللہ تعالیٰ کی قدرت نے وہ پھل لگایا جس کے متعلق فرماتا ہے۔فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہ عظیم الشان انقلاب جس شان سے ظاہر ہوا ہے کسی نبی کی تاریخ میں اس کا عشر عشیر بھی آپ کو نظر نہیں آئے گا۔حیرت انگیز انقلابات ہیں، شدید دشمنوں کا عظیم دوستوں میں تبدیل ہو جانے کی بکثرت مثالیں ہیں که انسان دنگ رہ جاتا ہے۔مجاہدین کا ذکر تاریخ میں پڑھ کر لوگ آج بھی عش عش کر اٹھتے ہیں۔ایک دفعہ تین مجاہدین ایسی حالت میں زخمی پڑے تھے کہ زبانیں خشک ہو رہی تھیں ، جان نکل رہی تھی لیکن وہاں پانی نہیں تھا۔عکرمہ ان میں سے ایک تھے۔جب پانی پلانے ولا عکرمہ تک پہنچا تو عکرمہ کی نظر اپنے قریب ایک اور زخمی پر پڑ گئی۔عکرمہ نے اشارہ کیا کہ پہلے اس کو پانی پلاؤ پھر میرے پاس آنا۔پانی پلانے والا دوسرے زخمی کے پاس پہنچا تو اس کی نظر ایک اور زخمی پر پڑ گئی۔چنانچہ اس نے بھی وہی اشارہ کیا کہ پہلے اس کو پانی پلاؤ پھر میرے پاس آنا۔بعض لوگ کہتے ہیں تین تھے، بعض کہتے ہیں زیادہ تھے مگر وہ جتنے بھی تھے یہ حقیقت ہے کہ جب اس نے بھی انکار کیا کہ نہیں پہلے دوسرے کو پلاؤ اور وہ واپس عکرمہ کے پاس لوٹا تو عکرمہ بھی دم توڑ چکا تھا اور وہ دوسرا بھی دم توڑ چکا تھا اور تیسرا بھی دم توڑ چکا تھا۔(اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ ذکر حارث بن ھشام جلد اول صفحہ ۴۰۰) جن لوگوں میں ایک دوسرے کی خاطر جان فدا کرنے اور ایثار کے حیرت انگیز نمونے ظاہر ہوئے ہیں یہ وہی لوگ تھے جو مسلمانوں کی جانوں کے سب سے بڑے دشمن تھے۔یہ وہی عکرمہ ہے جس نے احد کی خونریزی میں سب سے زیادہ حصہ لیا تھا اور باقی جو اس کے ساتھی تھے یہ سارے وہ نو مسلم تھے جنہوں نے مسلمانوں کو شدید نقصانات پہنچائے تھے اور اب ان کی کایا پلٹی ہے تو یہ حال ہو گیا ہے کہ اپنی جان جارہی ہے، پیاس سے زبان خشک ہو رہی ہے، جب زخمی شدید گرمی میں ایک گھونٹ پانی کو ترس رہا ہوتا ہے اس وقت یہ خیال کر کے کہ ایک مسلمان بھائی اور بھی پیاس میں تڑپ رہا ہے خود پانی نہ پینا