خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 98
خطبات طاہر جلد ۲ 98 خطبه جمعه ۱۸ رفروری ۱۹۸۳ء گئے کیونکہ اچانک پن کا صبر سے کوئی جوڑ نہیں یعنی اس اچانک پن کا کہ ادھر تم نے کام شروع کیا ادھر نتیجہ نکل آیا اس کا صبر سے کیا تعلق ہے۔ مگر قرآن کریم معاً بعد فرماتا ہے۔ وَمَا يُلَقَّهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا اس نتیجہ کو صبر کرنے والوں کے سوا کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔ پھر اچانک پن کا کیا مطلب ہے اور صبر کا مضمون کیا ہے؟ اب اس کو میں کھولوں گا تو بات سمجھ آجائے گی۔ بات یہ ہے کہ ہر نصیحت کا رستہ ایک صبر آزما مشکل کا رستہ ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کو بلاتا ہے تو اس کے دو طریق ہیں۔ یا تو اس شخص کے ساتھ آپ کی دوستی ہے اور یا دشمنی ہے۔ اگر دوستی ہے تو زیادہ نصیحت کرنے کے نتیجہ میں دوستیاں بھی ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔ آپ اپنے دوستوں کو بار بار نصیحت کر کے دیکھیں تھوڑی دیر کے بعد وہ کہنا شروع کردیں گے، کیا تم نے کان کھانے شروع کر دیئے ہیں یار چھوڑ و بھی ، اب بس بھی کرو۔ پھر زیادہ سختی کرنی شروع کریں گے تو وہ کہیں گے بند کرو یہ کیا رٹ لگائی ہوئی ہے۔ پھر کہیں گے جاؤ جہنم میں ہمارا دین الگ ہے تمہارا الگ ہے۔ ہم جو چاہیں کریں تم کون ہوتے ہو ہمیں نصیحتیں کرنے والے۔ پس تجربہ کر کے دیکھ لیں اس طرح بظاہر الٹ نتیجہ نکلتا ہے یعنی آپ جتنی نصیحت کرتے ہیں صلى الله اتنی دشمنیاں بڑھتی ہیں اور پھر انبیاء کے زمانہ میں تو یہ بہت شدت اختیار کر جاتی ہیں کیونکہ باوجود دوستی کے نصیحت کا مضمون بہت بلند ہو جاتا اور جس چیز کی طرف بلایا جاتا ہے وہ اتنی مختلف ہوتی ہے اس چیز سے جس پر وہ قو میں پائی جاتی ہیں کہ اس فاصلہ کے نتیجہ میں بھی بڑی شدت سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ اب دیکھئے آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ محبت کا پیغام لائے ہیں ،سب سے زیادہ احسن قول آپ کا قول تھا ، سب سے زیادہ احسن عمل آپ کا عمل تھا،اس کے باوجود سب سے زیادہ مخالفت آپ سے کی گئی ۔ تو پھر فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ کا کیا مطلب ہوا ؟ اس مضمون کو صبر نے کھولا ہے۔ فرمایا شروع میں ایسا ہی ہوگا جب تم نیک کاموں کی طرف بلانا شروع کرو گے تو شروع میں قوم کا اسی قسم کا ردعمل ہوگا۔ تمہاری محبتوں کے نتیجہ میں شدید نفرتیں پیدا ہوں گی لیکن اگر تم متزلزل نہ ہوئے ، اگر تم اپنی محبت پر قائم رہے، اگر اپنے قول اور فعل کے حسن پر قائم رہے تو پھر اس صبر کے نتیجہ میں اذا الَّذِی والا واقعہ رونما ہوگا۔ اور جب ایسا ہوگا تو تمہیں یوں لگے گا جیسے اچانک ہو گیا ہے۔ حالانکہ صبر اندر ہی اندر مخالفتوں کو کھا جایا کرتا ہے۔ صبر میں بڑی قوت ہے۔ یہ