خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 40

خطبات طاہر جلد ۲ 40 خطبه جمعه ۲۱ جنوری ۱۹۸۳ء واقعات بھی بیان ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر از جماعت سوسائٹی پر بھی اس تحریک کا گہرا اور وسیع اثر پڑا ہے اور وہ یہ مانے پر مجبور ہو گئی ہے کہ اگر آج کسی جماعت نے اسلامی قدروں کو زندہ رکھا تو وہ جماعت احمد یہ ہوگی۔ایک خط میں ، جس میں انہی باتوں کا ذکر تھا، ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔کچھ بچیاں جو پہلے بے پردہ تھیں انہوں نے اس تحریک کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حیرت انگیز تبدیلی کا مظاہرہ کیا۔ایک اور خاندان کی بچیاں جو پردہ کرتی ہیں انہوں نے جب اپنی غیر احمدی سہیلیوں کو یہ واقعات سنائے اور یہ مثالیں بتائیں تو ان کی والدہ لکھتی ہیں کہ ان میں سے دولڑ کیاں بے اختیار کہہ اٹھیں کاش! ہم بھی کسی احمدی گھرانے میں پیدا ہوئی ہوتیں۔حقیقت یہ ہے کہ آج احمدی عورت احمدیت کی تاریخ میں ایک نئے سنہری باب کا اضافہ کر رہی ہے اور جس طرح بعض دفعہ بادلوں میں سے گزرتے ہوئے معلوم نہیں ہوتا کہ ہم بادلوں میں سے گزر رہے ہیں اسی طرح بعض تاریخ ساز ادوار ایسے ہوتے ہیں جن میں سے گزرتے ہوئے انسان پوری طرح محسوس نہیں کر سکتا کہ ہم کتنے عظیم تاریخی دور سے گزر رہے ہیں۔ہاں، جب مؤرخ بعد میں ان واقعات کو دور سے دیکھتا ہے تو اس کا دل ان سے متاثر ہوتا ہے اور اس کا قلم ان قوموں کو خراج تحسین ادا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جن کو وہ دور سے ایک خاص بلندی پر چمکتا ہواد یکھتا ہے۔لیکن مذہبی قو میں جب اپنی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کرتی ہیں یا پرانے مٹے ہوئے ابواب کو دوبارہ اجاگر کرتی ہیں تو ان کی نظر کسی انسان کی تحسین پر نہیں پڑا کرتی ، وہ اس بات سے بے نیاز ہوتی ہیں کہ دنیا ان کو پہلے کیا بجھتی تھی اور اب کیا سمجھے گی، وہ اس بات سے مستغنی ہوتی ہیں کہ مستقبل کا مؤرخ ان کو کس نظر سے دیکھے گا اور اس کا قلم ان کی تعریف میں کیا کیا جولانی دکھائے گا۔ان کی نظر محض اپنے رب رحیم و کریم کی رحمت پر اور اس کے پیار پر پڑا کرتی ہے اور ان کے لئے بس وہی کافی ہوتا ہے۔پس ہمیں اپنے رب کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ ہمیشہ یہی التجا کرتے رہنا چاہئے کہ ہمارے تمام نیک اعمال جو اسی کے فضلوں سے ہمیں کرنے کی توفیق ملتی ہے محض اسی کی رضا کی خاطر ہوں اور اگر چہ دنیا کا قانون جاری و ساری رہے گا اور دنیا ہماری تعریف میں رطب اللسان ہو جائے