خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 29
خطبات طاہر جلد ۲ 29 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء دلچسپ روایت معلوم ہوئی۔ہمارے صوبہ سرحد کے ایک مخلص احمدی دوست ہیں جن کے تعلقات کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔چند سال پہلے افغانستان سے ایک ایسے دوست ان سے ملنے کے لئے آئے یا یہ گئے وہاں ملنے کے لئے مجھے اس وقت صحیح یاد نہیں بہر حال ان کی ملاقات ہوئی۔یہ وہ شخص ہیں جنہوں نے افغانستان کی آزادی کی روح کا Symbol یعنی نشان قائم کیا ہے یعنی یہ وہ آرکیٹیکٹ ( نقشہ بنانے والے ) ہیں کہ جب افغان قوم نے یہ فیصلہ کیا کہ افغان آزادی کی روح کا ایک Symbol یعنی یاد گار قائم کی جائے تو یہ کام اسی آرکیٹیکٹ کے سپرد تھا کہ تم ڈیزاین بھی کرو یہ بھی فیصلہ کرو کہ اس کے لئے سب سے زیادہ موزوں جگہ کون سی ہے۔ہمارے احمدی دوست کہتے ہیں میں جب ان سے ملا تو میں بھی وہ مینار دیکھنے گیا تو پتہ لگا کہ وہ موزوں جگہ پر نہیں ہے۔ایک ایسی جگہ پر ہے جو آرکیٹیکچر یعنی فن تعمیر کے نقطۂ نگاہ سے موزوں نہیں تھی۔ایسی جگہ کمانڈنگ ہونی چاہئے، اونچی ہونی چاہئے ، کھلا منظر ہو تا کہ دور دور سے نظر آئے لیکن وہ مکانوں میں گھری ہوئی ایک چوک کے اندر جگہ تھی مجھے بڑا تعجب ہوا۔میں نے اس بوڑھے سے پوچھا کہ تم تو بڑے قابل آرکیٹیکٹ ہو تم نے اس یادگار کے لئے اس جگہ کا انتخاب کیوں کر لیا۔اس نے جواب یہ دیا کہ اس کا انتخاب اس لئے کیا کہ مجھے یہ کہا گیا تھا کہ افغان روح آزادی کو خراج تحسین ادا کرنا ہے یعنی یہ کہ وہ تمام دنیا کے اثرات سے آزاد ہے اس کو دنیا کا کوئی خوف نہیں ہے اور حق پر قائم رہنا جانتی ہے یہ تھی اس کی روح۔اور میں جب بچہ تھا میں نے یہاں اسی چوک میں ایک ایسا واقعہ دیکھا تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے میرے دل پر ثبت ہو گیا۔میں نے یہ دیکھا کہ ایک بزرگ زنجیروں میں جکڑا ہوا سنگسار کر نے کیلئے لے جایا جارہا تھا۔ہم بھی بچوں میں شامل ہو کر اسکا نظارہ دیکھنے کے لئے گئے۔میں نے اسکے چہرہ پر ایسی عظمت دیکھی، ایسی آزادی دیکھی، ایسی بے خوفی دیکھی اور ایسا اطمینان تھا اور اس کے چہرہ پر طمانیت کی ایسی مسکراہٹ تھی کہ وہ میرے ذہن سے کبھی نہیں اترتی۔پس جب مجھے میری قوم نے کہا کہ افغان روح آزادی کو خراج تحسین ادا کرنا ہے اور اس کے لئے ایک مینار قائم کرنا ہے تو میں نے سوچا کہ اس سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں جہاں میں نے اس آزادی کی روح کو دیکھا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَثْرَةُ الخَبِيثِ سے تو کوئی بات نہیں بنتی۔تم میں اگر ایک بھی طیب ہوگا ، ایک بھی صالح ہو گا تو وہی غالب آئے گا ، اُسی کی یاد میں باقی رکھی جائیں گی۔خباثت کو