خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 122
خطبات طاہر جلد ۲ 122 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء ابھی وہ پھل تمہاری جھولی میں نہیں آیا ، ابھی تک وہ غیر کا ہے اور غیر کے قبضہ و تصرف میں ہے اس لئے جب تک وہ تمہارا نہیں ہو جاتا تمہیں مسلسل اس کی طرف توجہ کرنی پڑے گی اگر توجہ نہیں کرو گے تو تمہاری محنتیں ضائع ہوتی چلی جائیں گی۔چنانچہ ایسے بھی مبلغ آپ کے علم میں بھی ہوں گے میرے علم میں بھی ہیں کہ وہ چند مجالس کے نتیجہ میں سمجھتے ہیں کہ ہم نے کمال کر دیا، بہت تبلیغ ہوگئی ، لوگ بڑے متاثر ہو کر واپس گئے ہیں۔لیکن واپس پھر کہاں گئے؟ یہ پتہ نہیں کرتے۔ہمیشہ کے لئے اندھیروں میں واپس چلے گئے ہیں یا دوبارہ واپس آنے کے لئے واپس گئے ہیں اس لئے تبلیغ کرنا یہ بھی حکمت کا تقاضا ہے۔حکمت کے اور بھی بہت سے تقاضے ہیں لیکن وقت کی رعایت سے میں ایک آخری بات جو سب باتوں پر حاوی ہے وہ بیان کرتا ہوں۔جب تک کسی کھیتی کی آبیاری نہ کی جائے اس وقت تک وہ پھل نہیں دے سکتی اور پانی دو طریق کے ہیں، ایک دنیا میں علم کا پانی جو آپ دیتے ہیں، یہ بھی بہت ضروری ہے لیکن اصل پھل اس فصل کو لگتا ہے جسے آسمان کا پانی میسر آئے اور وہ آپ کے آنسوؤں کا پانی ہے جو آسمان کے پانی میں تبدیل ہوتا ہے۔اگر محض علم کا پانی دے کر آپ کھیتی کو سینچیں گے تو ہرگز توقع نہ رکھیں کہ اسے بابرکت پھل لگے گا۔لازماً دعائیں کرنی پڑیں گی لازماً خدا کے حضور گریہ وزاری کرنی ہوگی ، اس سے مدد چاہتی ہوگی اور اس کے نتیجہ میں در حقیقت یہ مومن کے آنسو ہی ہوتے ہیں جو باران رحمت بنا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جب فضل نازل فرمائے گا تو پھر آپ دیکھیں گے دلوں میں حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہو جائیں گی۔اب میں اور مختصر کرتا ہوا بات چلاتا ہوں۔تیسری بات جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے وہ موعظہ حسنہ ہے۔حکمت کو پہلے رکھا پھر فرمایا موعظہ حسنہ سے کام لو۔موعظہ حسنہ کا مطلب یہ ہے کہ اس دعوت الی اللہ میں کوئی بھی بحث نہیں، کوئی مجادلہ نہیں، ایک یک طرفہ بات ہے۔اس سے پتہ چلا که قرآن کریم بحث و تمحیص کو سب سے آخر پر نمبر دیتا ہے۔سب سے پہلے حکمت کو رکھا۔حکمت سے جب آپ فضا تیار کر لیتے ہیں، ماحول پیدا ہو جاتا ہے، تو پھر کیا کرنا ہے؟ فرمایا پھر موعظہ حسنہ سے کام لو۔موعظہ حسنہ دلیل سے علاوہ ایک ایسی صاف اور کچی اور پاکیزہ نصیحت ہوتی ہے جو اپنے اندر ایک دلکشی رکھتی ہے اور اس کا کسی فرقہ ورانہ اختلاف سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔یہ براہ راست دل سے نکلتی