خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 379
خطبات طاہر جلد 17 379 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء زوالا مرا میر ہے اور معتمد ذ والا مر نہیں ہے۔امیر مامور بھی ہے یعنی ایک لحاظ سے معتمد بھی ہے لیکن امر دینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔اسی طرح سلسلہ کے تمام عہدے جو کسی بھی تنظیم سے تعلق رکھتے ہوں جماعتی تنظیم سے یا ذیلی تنظیموں سے ان سب میں یہ دو سلسلے ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ہر چھوٹے سے چھوٹے دائرے میں مثلاً خدام الاحمدیہ کا چھوٹا دائرہ ہے اس کے اندر جو بہت چھوٹے دائرے مقامی جماعتوں سے یا خدام کی مجالس سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے بھی ایک معتمد ہوا کرتا ہے اور ایک زعیم بھی ہوتا ہے۔معتمد کو اپنی طرف سے کوئی حکم جاری کرنے کا کسی دائرے میں بھی اختیار نہیں۔وہ صرف کان ہوتا ہے جو اپنے ذوالا مر کی طرف لگے رہتے ہیں ، جو کچھ اس کو کہا جائے بعینہ وہی کام کرتا ہے۔اگر وہ اپنی طرف سے کوئی حکم جاری کرے گا تو وہ معتمد ہی نہیں رہے گا۔وہ فرشتوں کے قریب ترین ہے تو اپنی اس حیثیت سے کیوں خوش نہیں ہوتا کہ میں فرشتہ ہوں۔خدا کے فرشتے بھی تو مامور ہوا کرتے ہیں ذوالا مرنہیں ہوا کرتے۔سارے قرآن میں کہیں بھی فرشتوں کو ذ والا مر نہیں فرمایا گیا، مامور ہیں اور اپنے دائرہ کار میں بعینہ وہی فرائض سرانجام دیتے ہیں جن کا حکم دیا گیا ہے۔ان احکامات میں سے جب وہ کوئی حکم لوگوں تک پہنچاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اللہ کے اذن سے ہم یہ حکم پہنچا رہے ہیں اور اس میں کوئی استثنا نہیں۔ہمیشہ فرشتے جو بات پہنچاتے ہیں وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اس وضاحت کے ساتھ پہنچاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات پر مامور فرمایا ہے کہ ہم آپ تک یہ پیغام پہنچادیں۔بعینہ یہی کام معتمد کا ہے۔جب بھی وہ کسی مجلس کو یا کسی فرد واحد کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم نے یہ کام کرنا ہے اگر وہ یہ حوالہ نہیں دیتا کہ میرے افسر بالا کی طرف سے میں اس بات پر مامور ہوں کہ تم تک یہ حکم پہنچاؤں تو اس کے حکم کی کوڑی کی بھی حیثیت نہیں۔جماعتیں یا مجالس اس کو کلیۂ نظر انداز کر سکتی ہیں کیونکہ وہ معتمد تو ہے لیکن ذ والا مر نہیں۔اگر کسی ذوالا مر کا پیغام اس نے پہنچانا ہے تو اس کو لازم ہے کہ وضاحت کرے کہ یہ حکم میرا نہیں ، میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ جس کے تابع ہوں اس نے یہ حکم مجھے آپ تک پہنچانے کے لئے مامور کیا ہے۔اگر اس نظام کو جو ساری کائنات کا نظام ہے اور اسی طرح پر جاری وساری ہے، جماعت احمد یہ اچھی طرح ذہن نشین کر لے تو کسی معتمد کے لئے اس میں سبکی کا بھی کوئی سوال نہیں کہ میری سبکی ہوگئی ، میں تو حکم دے ہی نہیں سکتا۔سارے فرشتوں کی سبکی ہوگی تو اس کی سبکی ہوگی۔