خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 83

خطبات طاہر جلد 17 83 خطبہ جمعہ 6 فروری 1998ء کا دھوکا حق ہے اس میں ایک ذرہ بھی شک کی گنجائش نہیں ۔ اللہ حق بات کہہ رہا ہے کہ شیطان کی ساری زندگی ، اس کی ساری کوششیں جو قیامت تک کے لئے اس کو مہلت ملی ہے دھوکا دینے کے سوا اور کسی چیز میں صرف نہیں ہوگی ۔ پس اے میرے بندو ! دھوکا نہ کھانا ۔ اس سے بڑی تنبیہہ اور ایسی سخت تنبیہہ اور ایسی بار بار تنبیہہ کسی اور کتاب میں نکال کے دکھا ئیں ۔ کسی اور رسول کی زندگی میں آپ یہ تنبیہات اور تنبیہات بھی ایسی جو دنیا کی زندگی کو انتہائی مکروہ کر کے دکھانے والی ہیں یہ نکال کے دکھا ئیں۔ آپ کو کہیں نہیں ملیں گی اور اس کے باوجود وہ امت جو آنحضرت صلی لا الہ سلیم کی طرف منسوب ہو رہی ہے اسی طرح شیطان کے دھوکا میں مبتلا ہے اور پہلی امتوں سے بڑھ کر خدا کی عقوبت کے نیچے آئے گی کیونکہ ان کو محمد رسول اللہ صلی ای ایم نصیب نہیں ہوئے تھے ، ان کو قرآن نصیب نہیں ہوا تھا۔ جب اُمت کو محمد رسول اللہ صل الله السلام نصیب ہو گئے، جس کو قرآن نصیب ہوا اور جس کے لئے اس کی ساری زندگی کے دھو کے کھول کر دکھا دئے گئے اگر وہ پھر بار بار کی ٹھوکر میں مبتلا ہوتی ہے تو اس سے زیادہ بد نصیب کوئی اُمت نہیں ہو سکتی اور ان ٹھوکروں میں مبتلا کرنے والوں کے لئے آنحضرت صلی الہ السلام نے بعینہ یہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں، میں تمہیں انسانوں میں سے کہہ رہا ہوں کہ یہ سب سے بد نصیب ہو جائیں گے ۔ آنحضرت صلی الله السلام فرماتے ہیں: شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ“ (شعب الأيمان للبيهقي، باب فى نشر العلم ، حدیث نمبر : 1763) انسان تو انسان ، یہ جانوروں سے بندروں سے مکر وہ چیزوں سے ، سب سے زیادہ بدتر ہوں گے۔ وہ ان تنبیہات کے باوجود خود بھی راہ حق سے بھٹک جائیں گے اور لوگوں کو بھی شیطان کے چیلے بن کر راہ حق سے بھٹکانے والے بن جائیں گے۔ تو حِزبہ میں جس حزب کی طرف اشارہ آیا ہے وہ یہ لوگ ہیں شیطان اور اس کے ساتھی جو غرور یعنی دھوکا دینے میں الغرور ثابت ہوتے ہیں یعنی بہت بڑے دھو کے باز۔ وہ شیطان اکیلا نہیں بلکہ اس کا حزب بھی ہے اور اس حزب کے متعلق آنحضرت صلی لا الہ یام فرما رہے ہیں کہ وہ دین کا لبادہ اوڑھ کر تم پر حملہ آور ہوں گے۔ بڑے بڑے چغے پہنے ہوئے اور دیں گے دھوکا اور فریب۔ ان کی بات میں جھوٹ ہوتا ہے۔ جو سچ بولنا نہیں جانتا، جس کو دن رات جھوٹ کی عادت ہے وہ حق کا بندہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس لئے لفظ حق کو اچھی طرح پکڑ کے بیٹھ جائیں ۔