خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 908 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 908

خطبات طاہر جلد 17 908 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء ان کو نماز پڑھائی) چوتھی رات اتنے نمازی ہو گئے کہ مسجد میں ساہی نہیں رہے تھے (اور بہت بڑی مسجد تھی رسول اللہ صلی شما سیم کی گلیاں بھی بھر رہی تھیں نمازیوں سے ) حضور میل شما ای یتم باہر ہی نہیں نکلے۔فجر پہ تشریف لائے۔وہ لوگ ساری رات انتظار کرتے رہے یا اپنی عبادت کرتے رہے مگر رسول اللہ لی لی تم نہیں نکلے اور نماز ادا کرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور تشہد کے بعد فرمایا مجھ پر آج رات تمہاری حالت مخفی نہ تھی۔میں جانتا تھا کہ کس محبت اور شوق سے تم میرے پیچھے باجماعت نوافل ادا کرنے کے لئے اکھٹے ہوئے ہولیکن میں ڈرتا تھا کہ یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے۔اگر میں نے تواتر سے اس طرح نفلی نمازوں میں تمہاری امامت کروائی تو بعید نہیں تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ اسی صورت کو فرض فرما دیتا اور جب یہ فرض ہو جاتی تو تم اس سے عاجز آجاتے۔“ پھر سمجھ آتی کہ دُور دُور سے اس طرح مسجد میں آنا اور باقاعدہ با جماعت تہجد پڑھنا یہ تم نبھا نہیں سکتے تھے۔تو میری اس بات پر نظر تھی کہ تمہیں ایسی عادتیں ڈالوں جن کو تم عمر بھر نبھا سکو اور وقتی طور پر تھوڑی سی محنت کر کے پھر تھک نہ جاؤ۔کہتے ہیں: 66 پھر یہی طریق جاری رہا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی الہ الیتیم کا وصال ہو گیا۔“ (صحیح البخاری، کتاب صلاة التراويح، باب فضل من قام رمضان ، حدیث نمبر :2012) یہ ہیں رمضان کے مسائل سے تعلق رکھنے والی بعض احادیث جو میں نے آج مناسب سمجھا کہ آپ کے سامنے رکھ دوں اور میرے نزدیک اس میں تقریباً سارے متعلقہ مسائل جو اہم مسائل ہیں وہ بیان ہو گئے ہیں۔تو ان مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا رمضان گزاریں اور ایسا رمضان گزاریں کہ پھر یہ نماز سے نماز اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان ملتا چلا جائے یہاں تک کہ اگلا سال طلوع ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین