خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 905 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 905

خطبات طاہر جلد 17 905 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء گے جو ہر وقت تھوکتے رہتے ہیں اس لئے کہ کہیں وہ تھوک اندر جائے اور روزہ نہ ٹوٹ جائے حالانکہ آنحضرت صلی السلام کی سنت سے کہیں بھی ثابت نہیں کہ اس بنا پر آپ صلی ای سیم بکثرت تھوکتے تھے۔ تھوک کا نگلنا ہی سنت ہے اور پانی کا نہ نگلنا سنت ہے۔ حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ نبی اکرم صل اللہ السلام نے فرمایا کہ: لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک وہ روزہ کھولنے میں ( یعنی غروب آفتاب کے بعد ) جلدی کریں گے۔“ (صحيح البخاری، کتاب الصوم، باب تعجيل اللفطار ، حدیث نمبر :1957) یہ بھی ایک مسئلہ آپ کو سمجھانے والا ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سورج ڈوب بھی جائے تو جب تک سورج کے بعد میں رہنے والی سرخی مکمل طور پر زائل نہ ہو جائے ، اور بعض لوگ کہتے ہیں جب تک وہ سفیدی میں تبدیل نہ ہو جائے ، اس وقت تک روزہ نہیں کھولنا چاہئے ۔ یہ شیعہ مسلک ہے اور ہو سکتا ہے بعض سنی بھی اس مسلک پر عمل پیرا ہوتے ہوں مگر پوری حد تک نہیں کچھ نہ کچھ ضرور ہوتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی السلام نے قرآنی ارشادات کی روشنی میں روزے کو سختی نہیں فرمایا سہولت فرمایا ہے۔ پس جب سورج غروب ہو جائے تو جس وقت اس کا رم ، اس کا کنارہ نظر سے نیچے اتر جائے وہ ڈوب چکا ہو اسی وقت روزہ کھول لینا چاہئے ، ایک منٹ کی تاخیر بھی مناسب نہیں کیونکہ اللہ نے جو سہولت کا وقت مقرر فرمایا تھا اس سے انکار کرنا گویا کہ زبر دستی اللہ تعالیٰ پر اپنی نیکی ٹھونسنے والی بات ہے۔ اللہ سے اس معاملہ میں کوئی مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ جہاں اللہ نے سہولت دی ، سہولت کو اختیار کر لو ، جہاں خدا نے سہولت سے ہاتھ کھینچاؤ ہیں اپنا ہا تھ بھی اس سہولت سے کھینچ لو۔ اب چند منٹ باقی ہیں تراویح سے متعلق اور کتنی رکعتیں ہونی چاہئیں اس مسئلہ کو اب میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ آج کل یہاں اس مسجد میں بھی تراویح ہو رہی ہیں اور دوسری مساجد میں بھی ہو رہی ہیں۔ تراویح کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جاری کی تھی وں اور مزدوروں کی خاطر جو صبح نہیں اٹھ سکتے تھے تا کہ رات ہی کو وہ کچھ تراویح پڑھ کر اور تہجد میں شامل ہو جائیں لیکن یہ بات درست نہیں۔ خود آنحضرت صلی السلام سے بھی تراویح کی کچھ صورتیں مروی ہیں اور ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی ال ایلیم ہی نے اس سنت کا آغاز کیا پھر اس کو روک لیا۔ یہ وہ چند ان حدیثیں ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔