خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 901
خطبات طاہر جلد 17 901 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء جو روزہ نہ رکھتا ہو اور کستوریاں کھا کھا کر اس کے منہ سے خوشبو میں اٹھ رہی ہوں، اللہ فرماتا ہے اس کی میرے نزدیک کوئی حیثیت نہیں یعنی روزہ رکھو خواہ منہ سے بدبو آئے اور چونکہ اللہ کی خاطر تم اس بد بوکو برداشت کرتے ہو جو خود مومن کو پسند ہی نہیں۔یہ نہ کوئی کہے کہ اللہ کو پسند ہے مجھے بھی بد بو پسند ہوگئی، ہرگز یہ مراد نہیں۔رسول اللہ لا یتیم سے زیادہ بو کے معاملہ میں زُود حس اور کوئی نہیں ہوسکتا۔اس لئے باوجود اس کے محض خدا کی خاطر منہ بند رکھنے کے نتیجہ میں منہ سے جو بو اٹھتی ہے اسے رسول اللہ صلی ا یہ تم برداشت کر لیتے تھے۔یہ وہ بات ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے۔اس کی خاطر ایک ایسا بندہ جو بو سے گویا الرجک ہو، تصور بھی نہ کر سکے کہ اس کے پاس سے ، اس کے بدن سے، اس کے منہ سے بواٹھے اور وہ برداشت کر رہا ہے تو یہ بات خدا کو بہت پسند ہے بہ نسبت ایسے بے روزہ دار کے جو خوشبو میں لگائے پھرے اور اس کے منہ میں ہر وقت کچھ کھانے پینے کی خوشبودار چیزیں ہوں ، اس کے منہ سے کستوری کی خوشبو میں اٹھتی ہوں خدا کو ایسے بندے کی خوشبوؤں کی کوئی بھی پرواہ نہیں۔روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ فرحت محسوس کرتا ہے اوّل جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔“ (صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب فضل الصيام ، حدیث نمبر : 2706) جب بھی افطار کرتا ہے ایک خاص خوشی پہنچتی ہے اور اس خوشی کے نتیجے میں بعض لوگ اتنا افطار کر جاتے ہیں کہ رمضان کے مہینے میں پہلے ہونے کی بجائے موٹے ہونے لگتے ہیں اور یہ خوشی کا تو اظہار بہر حال ہے۔سارا دن کے رکے ہوئے بھی جب کھاتے ہیں تو پھر بے تحاشا کھانے لگ جاتے ہیں، تو یہ مراد نہیں ہے۔رسول اللہ لا لا لی یہ بھی تو روزہ کھولا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی روزہ کھولتے رہے ہیں ہمارے سامنے یعنی انہی دنوں کی بات ہے، اس زمانے کی۔روزہ کھولتے وقت خوشی تو ہوتی ہے مگر اس خوشی میں کھانا بے تحاشا نہیں کھایا جاتا۔ہاتھ روک کر کھانا چاہئے۔رسول اللہ صلی یا ہی ہم اور آپ صلی یا پیام کی غلامی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہاتھ روکنے کی توفیق زیادہ تھی۔جن کو کم ہے ان کو کم ہوگی مگر کوشش یہ کریں کہ اپنے آپ کو کھلی چھٹی نہ دیں تا کہ رمضان کے ساتھ جو برائیاں اتریں گی ان برائیوں کے علاوہ کچھ چربی بھی اتر جائے اور انسان ہلکا پھلکا جسمانی بدن لے کر رمضان سے باہر آئے۔تو ایک وہ خوشی ہے جب وہ روزہ کھولتا ہے۔دوسری اپنے رب سے