خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 900 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 900

خطبات طاہر جلد 17 900 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء اب انسان کے سب کام اس کے اپنے لئے ہیں روزہ بھی تو اس کے اپنے ہی لئے ہوتا ہے، روزے کے فوائد بھی تو اسی کو حاصل ہوتے ہیں پھر یہ کیوں فرمایا کہ میں اس کی جزا ہوں یعنی روزے کی جزا ؟ مطلب یہ ہے کہ روزے کے دنوں میں، روزے کے اوقات میں انسان ان حلال چیزوں کو بھی اپنے او پر حرام کر لیتا ہے جو دیگر ایام میں حلال ہیں اور رمضان کی بہت سی راتیں ایسی بھی آتی ہیں جن میں وہ راتوں کو حلال چیزوں کو بھی اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے تو یہ ایسا معاملہ ہے جو دوسرے دنوں میں روزے کے سوا د یکھنے میں نہیں آتا۔پس فرمایا کہ چونکہ میری خاطر وہ ایسا کرتا ہے، میرے جاری کردہ حلال کو میری خاطر وقتی طور پر اپنے اوپر حرام کرتا ہے تو میں اس کی جزا بن جاتا ہوں اور اس سے بڑی جزا روزے کی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ خود اس کی جزا بن جائے۔اور اسی حدیث کے تسلسل میں میں اس کی جزا ہوں کا نتیجہ یہ نکالا گیا ہے یعنی جزا کیوں بنتا ہوں کیا کیا اعمال کرو گے تو میں جزا بنوں گا یہ اس کی تشریح ہے آگے۔روزہ ڈھال ہے۔(ابھی یہ بات گزر چکی ہے ) پس تم میں سے جب کسی کا روزہ ہو تو نہ وہ بیہودہ باتیں کرے، نہ شور شرابہ۔اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو چاہئے 66 کہ وہ کہے کہ میں تو روزہ دار ہوں۔“ اتنا سا کہہ دے۔مطلب یہ ہے کہ لڑنا مجھے بھی آتا ہے، میں بھی ناجائز حملے کا جواب دے سکتا ہوں۔مگر اللہ کی خاطر رک گیا ہوں۔تو میں اس کی جزا ہوں اس طرح بنتی ہے بات۔جب خدا کی خاطر انسان عام جائز باتوں سے بھی رک جاتا ہے اس لئے اس کی جزا بنتا چلا جاتا ہے۔"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد لی لی ایم کی جان ہے۔روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“ اب یہ بات بھی سمجھنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ کو بو یا بد بو سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بد بو آئے یا خوشبو آئے خدا کی ذات ان چیزوں سے بالا ہے۔تو کستوری سے زیادہ پیاری ہے، اس سے یہ بھی لوگ سمجھ سکتے ہیں یعنی لوگوں کو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اللہ کو کستوری کی خوشبو بہت پسند ہے۔یہ ہرگز مراد نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو زیادہ پسند کرتا ہے کہ روزے دار روزہ کی بنا پر کھانے پینے سے محروم رہتے ہوئے اس حال کو پہنچ جائے کہ اس کے منہ سے روزے کی بو آنے لگ جائے۔اس کے برعکس وہ شخص