خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 898
خطبات طاہر جلد 17 898 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء سهل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یہ تم نے فرمایا : نماز روزہ اور ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کئے گئے مال کو سات سو گنا بڑھا دیتا ہے۔“ (سنن أبی داؤد، کتاب الجهاد باب فى تضعيف الذکر فی سبیل اللہ تعالی ، حدیث نمبر : 2498) اب دیکھیں اس کے ساتھ شرط ہے، نماز اور روزہ اور ذکر کرنا بڑھاتا ہے۔یہ شرط پوری ہونی ضروری ہے۔نماز کا حق ادا کیا جائے ، روزے کا حق ادا کیا جائے، ذکر الہی کا حق ادا کیا جائے ، اس کے ساتھ اگر خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے سات سو گنا بڑھا دیتا ہے۔قرآن کریم میں جہاں سات سو گنا بڑھانے کا ذکر ملتا ہے وہ بالیوں کی تعداد کے اشارے سے ایک دانے سے اتنی بالیاں نکلتی ہیں اس سے استنباط ہوتا ہے کہ سات سو گنا بڑھاتا ہے مگر ساتھ ہی یہ وعدہ ہے جس کے لئے چاہے اس سے بہت زیادہ بڑھاتا ہے۔تو تعداد جب بیان کی جاتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعداد بیان کی جاتی ہے تو صرف بندوں کو ایک ترغیب کی خاطر سمجھانے کے لئے اور دوسرے لفظوں میں کم سے کم یہ تو ہو گا ضرور اور اس سے بہت زیادہ بھی ہوگا۔اب دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ پاس تھا خدا کی راہ میں خرچ کیا اور اب جماعت کا بجٹ دیکھیں اربوں تک پہنچ گیا ہے اور ساری دُنیا میں فیض پہنچ رہا ہے۔تو رسول اللہ صلی ال ایام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ نے جو خرچ کیا، انفاق فی سبیل اللہ اس کو خدا نے دیکھو کیسے رنگ دلائے ، کیسی برکت دی اور انفرادی طور پر بھی یہ ممکن ہے کہ ساری جماعت کے اموال میں بہت برکت پڑے مگر شرط وہی ہے جو حدیث کے حوالہ سے میں نے بیان کی ہے۔نماز ، روزہ اور ذکر الہی کا حق ادا کرو اور اس کے ساتھ ذکر الہی سے معمور ہوکر پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرو پھر دیکھو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے اموال میں برکت دیتا ہے۔مطرف سے روایت ہے، سنن النسائی کتاب الصیام سے یہ روایت لی گئی ہے، کہ : میں عثمان بن ابی العاص کے پاس گیا انہوں نے دودھ منگوایا۔میں نے کہا میں روزہ سے ہوں۔(اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ نہیں تھا ، ویسے روزہ رکھا ہوا تھا) عثمان کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ علی تاکہ تم کو یہ کہتے سنا ہے کہ روزہ آگ سے بچانے 66 والی ڈھال ہے۔جس طرح جنگ سے بچنے کے لئے تم میں سے کسی کی ڈھال ہو۔“ (سنن النسائی، کتاب الصیام، باب ذکر الاختلاف علی محمد ، حدیث نمبر : 2231)