خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 897 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 897

خطبات طاہر جلد 17 897 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء کبائر سے بچانے والی نہیں تو اور کیا ہیں؟ اور ہر روز پانچ مرتبہ ایسا ہوتا ہے۔پھر ایک جمعہ اگلے جمعہ تک یہ روز کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور جمعہ کو خصوصیت کے ساتھ ان امور کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جن کی روزانہ پانچ وقت توجہ دلائی جاتی ہے اور ایک رمضان اگلے رمضان تک کفارہ ہو جاتا ہے یعنی رمضان سے رمضان تک کا سلسلہ اسی طرح روز بروز کی پانچ نمازوں اور جمعوں کے ذریعہ ملتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ پورا سال انسان کبائر سے بچنے کی اہلیت حاصل کر لیتا ہے اور اگر بچنا چا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بچانے کے لئے بہت عظیم الشان انتظام جاری فرمار کھے ہیں۔ایک بات رمضان المبارک میں بہت زیادہ خرچ کرنے کی تلقین ہے، اتنازیادہ کہ آنحضرت سل ای یانم کے متعلق آتا ہے کہ آپ مسی یا پریتم کی خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی رفتار تو تیز ہواؤں کی طرح تھی لیکن رمضان میں یوں لگتا تھا جیسے جھگڑا آ گیا ہو۔ان ہواؤں کی رفتار اور بھی زیادہ تیز ہو جایا کرتی تھی اور بہت تیزی کے ساتھ آنحضرت صلی ا یہ تم انفاق فی سبیل اللہ کرتے تھے۔(صحيح البخارى، كتاب الصوم، باب أجود ما كان النبي يكون في رمضان ، حدیث نمبر : 1902) سوال یہ ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ کیا صرف مال نکلتاہی ہے یا اللہ تعالیٰ اموال میں برکت کا بھی اسی کو ذریعہ بناتا ہے۔تو اس حدیث میں یہ نسخہ درج ہے اگر چہ آنحضرت صلی نیا کی تم کی یہ ذاتی خواہش نہیں تھی کہ میں خدا کی راہ میں خرچ کروں اور جیسا کہ خدا نے وعدہ کیا ہے وہ مال کو بڑھائے یعنی اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ قومی اموال کو بڑھانے کے لئے رسول اللہ صلی ستم کا یہ نسخہ تھا۔اور یہ حقیقت ہے، ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی کیا یہ تم کے اتفاق ہی کی وجہ سے مسلمانوں کے قومی خرانے اتنے بھر دئے گئے کہ پھر وہ ملک در ملک خدا کا یہ مالی فیض بھی بنی نوع انسان کو پہنچاتے رہے، غریبوں کو پہنچاتے رہے اور وہ خزانے ختم ہونے میں نہیں آتے تھے۔تو یہ وہ نسخہ ہے جو مال بڑھانے کا نسخہ ہے جو انفرادی لحاظ سے بھی اطلاق پاتا ہے۔اس لئے وہ لوگ جو رمضان کے مہینہ میں خرچ کرتے ہیں ان کو یا درکھنا چاہئے کہ اس خرچ سے ان کے مال میں کمی نہیں آئے گی اور بہت سے جماعت کے غرباء اس سے استفادہ کریں گے۔خدا کی خاطر خرچ کریں، اللہ کی خاطر خرچ کرنے کی نیت سے خرچ کرنا لازم ہے۔ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ جو بہت زیادہ بندے کے شکر کا شکر ادا کرنے والا ہے وہ ایسے بندوں کے اموال میں برکت دے گا۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔