خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 896
خطبات طاہر جلد 17 896 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء مہیا کر دیں اور آنے والی عید پر ان کے لئے تحفے مہیا کریں تو بہت بڑی خدمت ہے۔ کل عالم اسلام میں چونکہ غربت زیادہ ہے اس لئے یہاں تو اس خدمت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ تو ان سے، غیروں سے ہی سبق سیکھیں اور وہ دروازے جن کا رسول اللہ صلی ہم نے ذکر فرمایا ہے ان دروازوں کو اپنے اوپر کھولیں اور مسلمانوں کے لئے کھول دیں مگر اللہ تو کھولتا ہے مگر ان کو یہ دروازے کھولنے کی توفیق نہیں ملتی ۔ یہ تبصرہ تنقیدی نہیں بلکہ ناصحانہ ہے۔ یہ خبریں جن مسلمان ممالک تک پہنچتی ہیں اور یہ بہت سے ایسے ہیں جن کی اسیلیجنس ان کو میرے خطبات کے متعلقہ حصہ پیش کرتی ہیں تو اس لئے میں اُمید رکھتا ہوں کہ چونکہ یہ اس بات پر گہری نظر رکھ رہے ہیں کہ احمدیت کی دُنیا میں کیا ہو رہا ہے اس لئے یہ خبریں ضرور ان میں سے ان لوگوں کو پہنچیں گی جو فیصلہ کرنے کے مجاز ہوا کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ اسی رمضان میں نہ سہی تو اگلے رمضان میں ہی ایک مستقل نظام جاری کر دیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مسلمان ممالک پر یہ جنت کے دروازے کھلنے لگیں ۔ ایک حدیث ہے جو کتاب الطھارۃ صحیح مسلم سے لی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ الی یم فرمایا کرتے تھے کہ: کبائر سے بچنے کے لئے پانچ نمازیں، ایک جمعہ اگلے جمعہ تک اور ایک رمضان اگلے رمضان تک کفارہ ہوتا ہے۔“ (صحیح مسلم ، کتاب الطهارة، باب الصلوات الخمس والجمعة ۔۔۔، حدیث نمبر : 233) یعنی بڑے گناہوں سے بچنے کے لئے دیکھو اللہ تعالیٰ نے کیسا زبردست انتظام کیا ہوا ہے کہ محافظین کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ایک دن بھی سال کا ایسا نہیں بچتا جس میں شیطان حملہ آور ہو اور اس کو رڈ کرنے کے سامان نہ ہوں ۔ تو فرمایا کبائر یعنی بڑے گناہوں سے بچنے کے لئے ۔ یہاں کبائر کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا ہے کہ انسان غلطی کا پتلا ہے ، کبائر سے بچنے والے، بڑے گناہوں سے بچنے والے بھی بہت سے ہیں جو روزمرہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی ال ای سالم نے ان کو نظر انداز فرما دیا ہے۔ فرمایا کبائر سے بچنے والے کے لئے پانچ نمازیں ہیں۔ ہر نماز پر اقرار کرتا ہے کہ اے خدا! مجھے سچی عبادت کی توفیق عطا فرما، مجھے منعم علیہ گروہ کے رستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما، مجھے مغضو بوا مغضوبوں کے رستہ - ،رستہ سے بچا ، ضالین کے رستہ سے ، ، رستہ سے بچا۔ اب یہ ساری باتیں