خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 893 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 893

خطبات طاہر جلد 17 893 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء دوسری حدیث سنن النسائی کتاب الصیام سے لی گئی ہے۔النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔(اس کا ترجمہ میں وو آپ کے سامنے رکھتا ہوں ) نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ بن عبد الرحمن سے کہا آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے اپنے والد سے سنی اور انہوں نے ماہ رمضان کے بارہ میں آنحضرت مصلی یہ تم سے براہ راست سنی ہو۔( بیچ میں کوئی اور واسطہ نہ آیا ہو ) ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی السلام نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رمضان کے روزے رکھنا تم پر فرض کئے اور میں نے اپنی سنت کے ذریعہ تم پر کھول دیا ہے کہ اس کا قیام کیسے کیا جاتا ہے۔“ جیسے نماز کو قائم کیا جاتا ہے اور اگر کوشش اور محنت اور توجہ سے نماز کو قائم نہ رکھا جائے تو بار بار اس میں گرنے کا رجحان پایا جاتا ہے یعنی اس کے تقاضے پورے نہیں کئے جاتے تو جس حد تک تقاضے پورے نہ ہوں اس حد تک کہ سکتے ہیں کہ اتنی نماز گر گئی۔رمضان کا بھی یہی حال ہے۔رمضان کے روزے رکھنا قیام نماز کی طرح ہے۔جہاں جہاں بھی کوئی انسان اس کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے گا اس حد تک رمضان کھڑا نہیں رہے گا۔پس رسول اللہ صلی ا یہ تم نے فرمایا ہے کہ میں نے اپنی سنت کے ذریعہ تم پر کھول دیا ہے یعنی سنت جاری کر کے بتادیا ہے اس طرح رمضان کے حقوق ادا کئے جاتے ہیں۔اسی طرح جس طرح میں نے رمضان گزارے ہیں تم بھی رمضان گزارو تو تم نماز کی طرح رمضان کو بھی قائم کرنے والے کہلاؤگے۔اس کے بعد فرمایا: پس جو اس کے روزے رکھے اور اسے قائم کرے۔( کس حالت میں قائم کرے؟ ) ایمان کی حالت میں اور نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے۔(تمام وقت ایمان کی حالت میں رہے اور ہمیشہ نفس کا محاسبہ کرتا رہے ) وہ اس دن کی طرح اپنے گناہوں سے باہر نکل آئے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔“ (سنن النسائی، کتاب الصیام، باب ذکر اختلاف یحی بن ابی کثیر۔۔حدیث نمبر : 2210 ) یعنی پاک وصاف فطرت لے کر بچہ پیدا ہوتا ہے اور جس طرح ماں کے پیٹ سے باہر نکلا تھا اسی طرح اس رمضان سے باہر نکلے گا، اگر یہ شرائط پوری کرے گا۔