خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 894
خطبات طاہر جلد 17 894 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء ایک اور حدیث ہے جو اکثر آپ سنتے رہتے ہیں اس کی کچھ تشریح کی ضرورت ہے۔وہ ہے رمضان میں شیاطین کا جکڑا جانا اور ابواب جنت کا کھلنا۔الترمذی کتاب الصوم سے یہ حدیث لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ لی لی تم نے فرمایا: ” جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور آگ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور اس کا ایک بھی دروازہ کھلا نہیں رکھا جاتا اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور ایک بھی دروازہ بند نہیں رکھا جاتا اور منادی اعلان کرتا ہے کہ اے خیر کے طالب ! آگے بڑھ اور اے شر کے خواہاں !ارک جا اور آگ سے بچائے جانے والے اللہ ہی کی خاطر آگ سے بچائے جاتے ہیں اور ایسا 66 ہر رات ہوتا ہے۔" (جامع الترمذی، کتاب الصوم عن رسول الله ﷺ ، باب ماجاء في فضل شهر رمضان،حدیث نمبر : 682) یہ جو اللہ ہی کی خاطر آگ سے بچائے جاتے ہیں یہ ترجمہ ہے اس کا۔وَلِلهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ اور یله کا ترجمہ میں نے یہ کیا ہے اور اللہ ہی کی خاطر عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ آگ سے جو لوگ بچنے کی توفیق دئے جاتے ہیں ، جن کو آگ سے بچایا جاتا ہے وہ اللہ ہی کی خاطر آگ سے بچائے جاتے ہیں۔جس میں یہ مفہوم مضمر ہے کہ اگر ان کا رمضان اللہ کی خاطر بسر ہوگا تو اللہ کی خاطر ہی پھر ان کو آگ سے بھی بچایا جائے گا۔بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے اللہ کے بندے اس دن آگ سے بچائے جاتے ہیں، مجھے تو اس سے اختلاف ہے۔یہاں اللہ کے بندے مراد نہیں ، بندے تو ہیں لیکن لِلهِ عُتَقاء اللہ کی خاطر جنہوں نے رمضان بسر کیا وہ اللہ ہی کی خاطر آگ سے بچائے جائیں گے یعنی اللہ اس بات کا لحاظ رکھے گا۔وذلِكَ كُلّ لَيْلَةٍ - تو یہ ہوتا ہے ہر رمضان کی رات کو یہ ظرف بن جائے گا اس لئے گل ليلة ہو جائے گا پس ایسا رمضان کی ہر رات کو ہوتا ہے۔میں نے یہ عرض کیا تھا کہ یہ تشریح طلب حدیث ہے کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ رمضان کی راتوں کو یا رمضان کے آغاز پر بھی جہنم کے سارے دروازے بند نہیں کئے جاتے اور جنت کے سارے دروازے کھولے نہیں جاتے یعنی عام بنی نوع انسان کے لئے جو اللہ کی خاطر رمضان بسر نہ کرتے ہوں ، اور ایسا ساری دُنیا میں ہو رہا ہے۔خدا کے نام پر تہوار منائے جاتے ہیں اور ان تہواروں میں